**History of Losers**
Started watching this drama because of the presence of four charming boys. But while watching, three of them started feeling extremely annoying because of their characters. The story revolves around young adults from the year ’99. And honestly, it mirrors the story of modern-day Pakistani youth. Yes, we’re that far behind the rest of the developed world. Coming back to the story:
The story begins with the introduction of four twenty-year-old boys who have recently joined a university. All of them are intensely fixated on girls, except for one friend—who appears somewhat normal among them. The reason for this normalcy unfolds in the last episodes. The other three, however, fall in love with every breathing girl they see. Whether they’ll succeed in their love interests or not—watch the drama to find out.
**Lessons from the story:**
*For newly enrolled university girls:*
Sisters, if you need a schedule, ask a girl. Do not ask a weird-looking guy, as he will fall for you instantly and end up embarrassing you thoroughly. Being a girl myself, I understand why the girl asked the guy for the schedule and why she immediately “friend-zoned” him. Do let me know, ladies, whether her friend-zoning decision was correct or not after watching.
*For mature and serious girls:*
Sisters, even if you’ve seen the world and are mature beyond your years, do not get involved with a halfwittedly dense guy—even if he is just one month younger than you and no matter how charming he appears. Boys do not develop understanding and sophistication even in old age, so expecting anything productive from a young boy is futile. These girls ended up mistaking the fleeting feelings of a twenty-year-old boy for genuine emotions. Their interactions had dozens of moments when it seemed inevitable the boy would get slapped, but the mature and serious girl let him off and slaped by what we might call the metaphorical slap of bitter reality.
*For clueless boys:*
Romantic interactions come naturally after you’re thirty. By then, not only does your appearance improve, but you also develop some manners and sophistication. So, even if you’re drooling over a girl right now, avoid stalking her. What the guy did to both these girls makes calling him a villain more appropriate than a hero.
*For confident girls:*
This sister was self-sufficient and sensible. What happened was that wherever she sought support from someone, she ended up humiliated. But the decisions she made for herself were absolutely right.
*For struggling boys:*
If your mom works hard as a laborer, and you’re hustling day and night to make ends meet, you should avoid unnecessary expenses. One of the brothers here saw a beautiful girl all alone in the pouring rain early one morning. Instead of running away in fear, mistaking her for a ghost, he approached her to offer his raincoat. It would’ve been better if he’d run away; he’d have fewer reasons to cry later.
*For infatuated boys:*
“Fall for every girl who is breathing girl.” This guy is so simple he kept on falling for girls around him.Learn from him—How to lower your standards and start self-reflecting. The day he did both, he got a girl.
*For “Pakistani elder sisters”:*
Why call her a Pakistani elder sister? Because 80% of Pakistani girls think they can knock some sense into infatuated boys and transform them into worthy partners. This girl truly did reform the infatuated guy because, unlike most, she wasn’t actually a stereotypical “Pakistani elder sister.” First, she deflated her pervert friend and then polished him into someone worth her respect. Now, he praises her endlessly.
*For kind and decent boys:*
You are a rare species; preserve yourselves. Good girls will cross your path at every turn.
*For breakup initiators (boys):*
After breaking up, never meet your ex-girlfriend in your car. That’s the lesson.
*For breakup initiators (girls):*
Always keep a backup guy in sight to lean on after the breakup. This sister wisely forgave her backup, though forgiving wasn’t entirely justified. And her friend, who knew her boyfriend was a cheater but didn’t warn her, deserved a good scolding too.
—
**Personal Opinion:**
This drama left me with a huge smile. It’s not a comedy, but it’s extremely close to reality. It brilliantly portrays the emotions of twenty-year-old boys and girls. Every episode has a twist that keeps you hooked till the end. It does break your heart to see that the facilities Koreans had in 1999 still don’t exist in our country. Lastly, keep this drama away from certain online and digest writers; otherwise, they’ll twist the story and publish it as a bestselling novel under their name!
*Desikimchi ratings: 5/5.*
Just one flaw—the beginning scene of the first episode did not connect at all with the final scene of the last episode.
History of losers
یہ ڈرامہ دیکھنے بیٹھی چار عدد پیارے لڑکوں کی وجہ سے ۔ ڈرامہ دیکھتے ہوئے تین عدد پیارے لڑکے تو ذہر ہی لگنے لگے۔اپنے کردار کی وجہ سے۔ کہانی گھومتئ ہے 99 کے زمانے کے جوانوں کے گرد۔اور سچ پوچھیں تو آجکل کے پاکستانی جوانوں کی ہی کہانی ہے جی ہاں ہم باقی ترقی یافتہ دنیا سے اتنے ہی پیچھے ہیں۔ کہانی پر آتے ہیں
کہانی شروع ہوتی ہے چار بیس سال کے لڑکوں کے تعارف سے جنہوں نے حال ہی میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے سب کو شدید ٹھرک ہے لڑکیوں کی سوائے ایک دوست کے یہی بس کچھ نارمل انسان ہے انکے بیچ وجہ آخری قسطوں تک پتہ لگے گی ۔باقی تینوں کو بس سانس لیتی لڑکی نظر آجائے اس سے محبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اب انکو انکی محبتیں ملیں گی کہ نہیں ڈرامے میں دیکھ لینا
کہانی سے سبق ملتے ہیں
یونیورسٹی میں نیا داخلہ لینے والی لڑکیوں کو
بہن شیڈول چاہیئے تو کسی لڑکی سے لو۔ کسی گھونچو گھامڑ دکھائی دیتے لڑکے سے نہ مانگو اس کو فوری محبت ہونی ہے اور پھر اس نے رج کے ذلیل کرنا ہے۔ ویسے میں بھی لڑکی ہوں تو سمجھ سکتی اس لڑکی نے اس لڑکے سے ہی شیڈول کیوں لیا اور سیدھا فرینڈ زون کیوں کیا تم لوگ دیکھ کر بتانا لڑکیوں اس نے فرینڈ ذون صحیح کیا کہ غلط
سمجھدار سنجیدہ لڑکیوں کیلئے
بہنوں تم لوگ ضرورت سے ذیادہ دنیا دیکھ چکی ہو تو کوئی گھامڑ گھونچو چاہے تم سے عمر میں ایک مہینہ بھی چھوٹا کیوں نہ ہو کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہواس سے ہرگز نہ پٹ جانا۔ لڑکے سمجھدار اور تہزیب یافتہ بڑھاپے میں بھی نہیں ہو پاتے کجا کسی نوجوان سے توقع رکھنا کہ وہ کسی کام کا ہوگا تمہارے۔
یہ بہن بیس سالہ لڑکے کے جزبات کو اسکے اصل جزبات سمجھ بیٹھیں۔ انکے تعلقات میں درجنوں مقام ایسے آئے کہ سوچا اب تو پکا یہ لڑکا تھپڑ کھائے گا مگر چونکہ لڑکی ضرورت سے ذیادہ سنجیدہ اور سمجھدار تھی تو یہ تھپڑ اسے لگا حقیقتا نہیں محاورتا۔تلخ سچائی کا تھپڑ
گھامڑ گھونچو لڑکوں کیلئے
تم لوگوں کی صحیح رومانوی ملاقاتیں کرنے کی عمر تیس تک آتی ہے تب تک تھوڑی شکل بھی ٹھیک ہوجاتی ہے کچھ پڑھ لکھ کر تمیز تہزیب بھی آجاتی ہے سو بھلے ٹھرک سے جتنے بھی بے حال ہو رہے ہو کسی لڑکی کا پیچھا نہ کرنا۔ اس نے ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ جو کیا اسکے بعد اسکو ہیرو نہیں ولن کہنا ذیادہ مناسب ہوگا
پراعتماد لڑکیوں کیلئے
یہ بہن اپنا خیال خود رکھنے والی سمجھدار تھیں۔ انکے ساتھ یہی ہوا جہاں کسی سے ان دونوں چیزوں کو طلب کیا وہیں ذلت شروع ہوئئ انکی۔ مگر بہن نے اپنے لیئے جو کیا ٹھیک کیا۔
ماڑے سے لڑکوں کیلئے
ماں مزدوری کرتی ہو آپ صبح شام کتا خواری کاٹتے ہوں کہ دو وقت ڈھنگ کا کھا سکیں تو ایسے موقع پر تو اضافی خرچوں سے بھاگنا چاہیئے۔ ان بھائی کو علی الصبح برستی بارش میں اکیلی خوبصورت لڑکی نظر آئی تو اس سے ڈر کر بھوت سمجھ کر بھاگنے کی بجائے اسکو اپنا بارش کا کوٹ دینے پہنچ گئے۔
بھاگ جاتے تو بہتر رہتا رونے کم ڈالنے پڑتے انکو
ٹھرکی لڑکوں کیلئے
بھائی ہر لڑکی سانس لیتی لڑکی ہی ہوتی ہے۔ اس مقولے پر عمل کرتے یہ ہر لڑکی کو لائن مارتے رہے آخر ایک پٹا ہی لی ان سے سیکھو اپنا معیار کم کرنا اور آئینہ دیکھنا۔ جس دن انہوں نے دونوں کام کیئے سیدھے ہوگئے۔
پاکستانی باجی کیلئے
ان کو پاکستانی باجی کیوں کہا ؟ اسی فیصد پاکستانی لڑکیاں خود کو ایساہی طرم خان سمجھتی ہیں کہ ٹھرکیوں کو ٹھونک بجا کر ٹھیک کرکے اپنے لائق کرلیں گی ۔ٹھرکی بھائی کو اس لڑکی نے سچ مچ ٹھیک کرلیا کیونکہ یہ سچ مچ پاکستانی باجی نہیں تھیں نا۔ تو سب سے پہلے انکی ٹھرک کے غبارے سے ہوا نکالی مانجھ رگڑ کر ٹھیک کردیا۔اب یہ اسی کا دم بھرتے ہیں۔
حسین اور شریف لڑکوں کیلئے
تم لوگ متروک مخلوق ہو اسلیئے بس خود کو بچا کر رکھو اچھی لڑکیاں قدم قدم پر ملیں گی۔
بریک کرنے والے لڑکوں کیلئے
بریک اپ کے بعد اپنی گاڑی میں ملنے مت جائو اپنی سابقہ محبوبہ سے۔ بس اتنا ہی سبق ہے
بریک اپ کرنے والی لڑکیوں کیلئے
ہمیشہ اک عدد بندہ تاڑ کر رکھو جو بریک اپ کے بعد کام آئے۔ ان بہن نے عقل سے کام لیتے تاڑے ہوئے بندے کو معاف کردیا ورنہ معاف کرنا بنتا نہیں تھا۔ دو جوتے اپنے اس دوست کو بھی مارنے چاہیئے تھے جو جانتا تھا کہ اسکا دوست دھوکے باز ہے مگر اپنی سہیلی کو نہیں بتایا کمینہ
ذاتی رائے
یہ ڈرامہ اتنی بڑی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔ مزاحیہ نہیں ہے لیکن حقیقت کے بے انتہا قریب ہے۔ 20 سال کے لڑکے لڑکیوں کے جزبات کی صحیح ترجمانی کی گئ ہے ہر قسط میں ایک نا ایک ایسا موڑ ہے جو آپکو اس ڈرامے کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔ 99 میں جو کوریا کے لوگوں کو سہولتیں تھیں وہ آپکے ملک میں آج بھی نہیں بس یہ دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے ۔ باقی ٹمرہ احمد سے یہ ڈرامہ بچا کر رکھنااور آن لائن رائٹرز سے بھی ورنہ کہانی توڑ موڑ کر اپنے نام سے ہٹ ناول لکھ ڈالیں گی
Desikimchi ratings: 5/5
بس آخر میں چول ماری ہے پہلے قسط کے پہلےمنظر سے آخری قسط کا آخری منظر بالکل جڑ نہ سکا