نیٹ فلیکس پر آگئ ہے
سنی سنسکاری کی تلسی کماری: ایک سستی کاپی یا وقت کا ضیاع؟ (فلم ریویو)
سنی سنسکاری کی تلسی کماری
سو دیکھنی پڑی۔ اب سب مجھے غدار مت سمجھنا میں دراصل انڈین فلمیں انکو برا بھلا کہنے کیلئے دیکھتی ہوں۔ شاذ ہی کسی فلم کی تعریف کرتی ہوں تو ایک طرح سے یہ میری میرے وطن کے لیئے جنگ ہے۔ فنون لطیفہ کی جنگ کہ میں دیکھتی ہوں اور برا بھلا کہتی ہوں۔ اور تو اور فلم جتنی تیز رفتار پر نیٹ فلیکس پر دیکھی جا سکتی ہے اس پر دیکھتے بھی آگے آگے کرتی جاتی ہوں اسی پر بس نہیں میری جنگ بالی ووڈ کے خلاف جاری رہتی ہے۔ فلم کو ناپسند بھی کردیا نیٹ فلیکس پر فیڈ بیک میں اور کیا ثبوت دوں حب الوطنی کا۔۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئ۔ کہانی پر آتے ہیں۔ کہانی ہے ایک سیدھے سادے مڈل کلاس لڑکے سنی سنسکاری کی جس نے اپنی تین سال پرانی محبوبہ کو جب رشتہ دیا تو اس نے کہا بھی میں تو حالات پر منحصر رشتہ رکھتی ہوں تم سے اور میرا دل بھر گیا میری شادی ہورہی ہے ۔ سنی کا دل ٹوٹ پھوٹس۔ روتس پیٹس۔ اور بس زندگی ختم۔ ایک عدد اضافی معاون کردار نے جو سنی کا دوست بنا ہوا ہے فلم میں بتایا کہ اسکی محبوبہ کا ہونے والا میاں آٹھ ہزار کروڑ کا مالک ہے۔ اور ایک عدد مڈل کلاس لڑکی کے ساتھ وہی کرکے جو سنی کی محبوبہ نے سنی کے ساتھ کیا اب شادی کررہا ہے۔ بس سنی کو خیال آیا اس کو ڈھونڈنے کا۔ موصوفہ ہیں روائتی مڈل کلاس استانی تلسی کماری۔ بس یہ ملتے ہیں تلسی کماری سے۔ وہ بھی دکھ میں رو رو کے ہلکان ہیں ۔ سنی سنسکاری صاحب ان سے مل کر منصوبہ بناتے ہیں کہ چلتے ہیں اپنے اپنے سابق محبوب کی شادی میں اور شادی تڑواتے ہیں۔
جس کسی نے بچپن میں میرے یار کی شادی ہے دیکھی ہے سمجھ لو اسی فلم کا نمرہ ورژن ہے یہ فلم ۔ ( مطلب تھیم چرایا ہے اور کھپ ہی ماری ہے)
کہانی سے سبق ملتے ہیں۔
امیر والدین کیلئے۔
اگر بیٹے کمینے ہیں تو ٹھیک ہیں۔ اگر شریف بیٹا ہے تو اسکی شادی کیلئے سرمایہ کاری کرکے رکھو ۔ اس نے دو تین بار تو سرمایہ ڈبونا ہی ہے۔ بے چارہ دل جو نہیں توڑ سکتا
مڈل کلاس والدین کیلئے۔
بیٹی کیلئے امیر گھر ڈھونڈو ۔مگر بیٹی کو حرام خور اور پلنگ توڑ بھی بنائوانہوں نے اس خوف سے کہ کہی
غریب گھر ہی نہ مل جائے بیٹی کو۔ایسی احمق بیٹی پالی انہوں نے کہ دل کر رہا تھا فلم میں گھس کر کان کے نیچے لگائوں ایک باجی کے۔ وجہ بتاتی ہوں جب ان باجی کی باری آئے گی تو۔
طلاق یافتہ والدین کیلئے۔۔
وقت پر طلاق لیکر الگ ہو جائو تاکہ بیٹی کو طعنے ملیں اور بیٹی طعنوں تشنوں سے تنگ آکر ساتھ نبھانے والی بنے اور چن بھی سکے ایسے انسان کو جو ان سب طعنوں کے ساتھ اسے اپنائے۔
اضافی کرداروں کیلئے
تم سب سے دلی ہمدردی ہے۔ ہوتے تو ہمیشہ سے تھے تم لوگ فلموں میں مگر اب تو بالکل ہی تم لوگوں کا کردار فالتو بنا دیا گیا ہے۔ نہ مزاحیہ نہ رومانی بلکہ سرے سے شاذو نادر دکھائی دینے والے بن کر رہ گئے ہوتم لوگ۔
سائیڈ ہیروئن کیلئے۔
جب شادی کے دن قریب آجائیں تو اپنے تمام ایکسز کو بلاک کردو اگر کوئی شادی میں شریک ہونے آجائے تو اپنے میاں کا پہرہ دینا شروع کردو سب سے بڑھ کر عزت نفس نامی بلا سے جان چھڑائو۔ بلا وجہ کا بکھیڑا ہے اسکا۔ اچھی بھلی مفت کی روٹی توڑتیں تم مگر ایسی احمق لڑکی نہ دیکھی نہ سنی۔ ان باجی کو ہزاروں کروڑوں کی جائداد کے مالک کی بیگم بن کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر کھانا منظور نہیں تھا انکو بننا تھا کارپوریٹ سیکٹر کی ملازمہ انخو نو سے پانچ بیگار لیکر باس کی جھڑکیاں سننے کا شوق تھا۔ احمق گھامڑ لڑکی۔۔
سائیڈ ہیرو کیلئے
بھائی ہنس مکھ ٹھنڈے مزاج کے انسان تھے۔ انکو یقین تھا لڑکی بس اور ٹرین ایک جاتی ہے دوسری آتی ہے۔ چونکہ آٹھ ہزار کروڑ کے مالک تھے لہذا کپڑوں کی طرح محبوبائیں بدلتے رہے اور چین کی بنسی بجائی۔
ہیرو کیلئے۔
لڑکی دھوکا دے تو اسکے ہونے والے دلہا کا پتہ لگائو۔ یقینا اسکی ایکس بھی کہیں گھوم رہی ہوگی۔ ٹوٹے دل والی لڑکی تمہارا دل نہیں توڑے گی سو ساری توانائیاں اسے پٹانے میں لگا لو۔ بس دھیان رہے دلہا کی ایکس نے دلہا سے پہلے شادی نہ کرلی ہو ورنہ کسی اور کی ایکس پر گزارا کرنا پڑے گا۔
ہیروئن کیلئے۔
امیر لڑکا پٹائو اور اگر وہ دھوکا دے کر شادی کرنے لگے تو خوب روئو آنسو بہائو۔ قدرت خود تمہارے لیئے ترس کھا کر ہم پلہ لڑکا ڈھونڈ دے گی بس شادی کرلینا اس سے۔ خوامخواہ میں اپنے ایکس کی شادی تڑوانے نہ پہنچنا فالتو میں فوٹیج کھائوگی کیونکہ جو انسان دل توڑ دیتا ہے وہی دل جوڑ نہیں سکتا۔۔
کیونکہ ٹوٹے دل کے ہر ٹکڑے سے وہ انسان اتر جاتا ہے۔
اف کیا بات کہہ دی میں نے۔
ذاتی رائے:
فلم بہت دلچسپ اور نئی کہانی پر مبنی۔۔۔۔۔ہو سکتی تھی اگرکہانی پر توجہ دی جاتی۔ ایک بات دلچسپ تھی کہ ہیرو ہیروئن دونوں مل کر اپنے اپنے ایکس کو جلانے انکی شادی تڑوانے پہنچے۔ اس پر بہت مزاحیہ موڑ ڈالے جا سکتے تھے دلچسپ مکالمے مزیدار کردار بھی۔ مگر نہیں ڈالے۔ رہ رہ کر مجھے میرے یار کی شادی یاد آئی
فلم کی بات کر رہی ہوں۔ احمقو۔ اس میں جو دو درجن کردار فوٹیج کھا رہے تھے انہوں نے ہیروئن کا ادے چوپڑا کو جمی شیر گل پر فوقیت دینے کا غم ہلکا کردیا تھا پھر گانے کتنے پیارے تھے فلم کے۔ اور تو اور بپاشا بھی پیاری آئی اس فلم میں۔ اور اس فلم کی یہ سستی کاپی سنی سنسکاری کی تلسی کماری میں یہ سب عنصر غائب تھے۔
Desi Kimchi ratings: 3/5
ویسے تبصرہ ذیادہ دلچسپ لکھ دیا ہے میں نے۔۔
