**Dhoom Dhaam**
Watched it. From the trailor, I thought the hero would find out on the wedding night that the heroine is an incredible, agile secret service agent, but my guess was wrong because, after all, I wasn’t watching a Hollywood movie.
**Plot Summary:**
The story begins with an arranged marriage. The heroine is excessively virtuous. Her parents can’t stop praising her. She doesn’t leave the house after 7 PM, engages in religious rituals, is adept at household chores, obediently listens to her parents, and agrees to marry a dim-witted veterinarian on their insistence. The groom truly is a fool.
The wedding happens, and on the wedding night, as they prepare for their first night in a hotel, the heroine is making tea when two goons knock on the door and enter, asking, “Where is Charlie?” They don’t have an answer and spend the entire night being chased by the question, “Where is Charlie?” through the city’s streets, rooftops, and bars (the English kind).
**Lessons from the Story:**
**For CID Officers:**
Don’t just barge in anywhere because your face has started looking like a criminal’s. Even a virtuous person can turn into a thug in an instant.
**For Police Officers:**
Be as cunning and vile as you can, but if a decent person repeatedly says, “In relation, I am like your father,” at least think about why this madman keeps repeating the same line. If you’d thought about it, you would have succeeded.
**For Uncles:**
If you have to reveal something while hanging upside down, just say it without actually hanging. At least the contents of your stomach won’t reach your brain. Hanging such an elephant-like uncle must have taken quite a bit of time and energy.
**For Dogs:**
Eat the food meant for you, or you’ll get constipated. This dog seemed to be crossed with a goat, eating flowers. Silly dog. If it had crossed with Chitti (the South Indian robot), it would have benefited from what it ate.
**For Watchman Uncle:**
When you sit down to eat at night, just eat. Don’t go peeking at the door. This bad habit caused him to not only lose his meal but also to protect uninvited guests all night, leaving him exhausted and sleepless.
**For the Hero:**
If you’re afraid of life, you are life itself. This guy was afraid of everything—tight spaces, heights, and crafty women. Every fear was imposed on him. He was so virtuous that he opted for an arranged marriage but was so unlucky that he got a bride worse than a hundred of his phupoo’s daughters. One benefit was that now he would only fear what new mischief his wife would get up to. He was truly unlucky. Until the last scene, when his heart was about to bloom, the director yelled “cut” and started the credits. Poor guy.
**For the Heroine:**
Befriend scoundrels and get betrayed by your friend, then whoever your parents pick will seem good. This lady was a mastermind. If her true talents had been revealed to her husband on their wedding night, she would have gotten a divorce by morning. But she got such a leftover fool in an arranged marriage that her life was made. Then she did what any girl would do—started transforming her dim-witted husband into a cunning scoundrel like her ex-lover.
**Personal Opinion:**
The film isn’t exceptionally good, but it’s not terrible either. The story moved quickly, the stunts were good, and the twists were well executed. The hero pole dancing after shedding his virtuous persona was unique. It’s the first Bollywood film where the hero’s dignity is at stake instead of the heroine’s. It can be watched on Netflix at 1.5x speed by skipping ahead.
**Desi Kimchi Ratings: 3/5**
Just because it wasn’t overly offensive, I gave it 3 stars.
دھوم دھام
یہ دیکھی۔ جھلکی سے لگا تھا عین شادی کی رات ہیرو پر انکشاف ہوگا کہ ہیروئن تو سیکرٹ سروس کی باکمال پھرتیلی ایجنٹ ہے لیکن میرا اندازہ غلط نکلا کیونکہ بہر حال میں ہالی ووڈ کی فلم نہیں دیکھ رہی تھی۔
کہانی پر آتے ہیں۔ ایک عدد رشتے کے طے ہونے سے کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہیروئن شریف ہے حد سے ذیادہ۔ ماں باپ تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے۔ سات بجے کے بعد گھر سے باہر نہیں جانے والی ماتا کی چوکی سجانے والی گھر کے کام کاج میں طاق سر جھکا کر ماں باپ کی بات ماننے والی سب سے بڑھ کر چغد گھونچو دکھائی دینے والےجانوروں کے ڈاکٹر لڑکے سے ماں باپ کے کہنے پر شادی کرنے پر رضامند ستی ساوتری قسم کی باجی۔ جبکہ بھائی واقعی چغد ہیں۔
خیر شادی ہوجاتی ہے شادی کی رات ایک عدد ہوٹل میں دونوں سہاگ رات منانے کی تیاری کررہے ہوتے ہیں کہ ہیروئن چائے بنانے لگتی ہے دروازہ کھٹکھٹا کر دو عدد غنڈے اندر داخل ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں چارلی کہاں ہے؟ جواب انکے پاس ہوتا نہیں بس پھر ساری رات چارلی کہاں ہے کا سوال انکا پیچھا کرتا ہے یہ شہر کے چوراہوں چوباروں اور باروں ( انگریزی والا بار) میں بھاگتے دوڑتے پھرتے ہیں۔
کہانی سے سبق ملتے ہیں۔
سی آئی ڈی والوں کیلئے۔
کہیں بھی منہ اٹھا کے نہ گھس جایا کرو کیونکہ مجرم پکڑ کر شکل تمہاری مجرموں جیسی ہوچلی ہے اور شریف آدمی بھی شرافت چھوڑ کر غنڈہ بننے میں لمحہ لگاتا ہے۔
پولیس والوں کیلئے۔
کمینے بنو سب کمینگیاں ذلالتیں کرو مگر اگر کوئی شریف آدمی بار بار جملہ دہرائے کہ رشتے میں تو ہم تمہارے باپ لگتے ہیں تو ایک بار سوچو ضرور کہ اس پاگل کو کیا دورہ پڑا ہے جو بار بار ایک جملہ بک کے پٹے جا رہا ہے۔یہ سوچ لیتے تو آج کامیاب ہوتے۔
ماموں کیلئے۔
الٹا لٹک کے جو بتانا ہے وہ الٹا لٹکے بناہی بتا دو کم از کم پیٹ میں بھرا مواد دماغ تک تو نہیں پہنچے گا۔ ویسے اتنے ہاتھی جیسے ماموں کو لٹکانے میں خاصا وقت اور توانائی خرچ ہوئی ہوگی۔
کتے کیلئے۔
بھئی جو خوراک ہے وہی کھائو ورنہ قبض ہوجائے گا۔ یہ تھا تو کتا لیکن شائد بکری سے کراس تھا۔ پھول کھا رہا ہے۔ پاگل کتا۔ ویسے کراس ہوجاتا یہ چکی( سائوتھ انڈین روبوٹ ) سے تو جو کھایا تھا اس نے اس سے کچھ چکی ہی فائدہ اٹھا لیتا۔
چوکیدار انکل کیلئے۔
رات کے وقت کھانا کھانے بیٹھو تو کھانا کھانے ہی بیٹھو دروازے پر جھانکنے نہ پہنچ جائو۔ انکی اس بری عادت نے انکو اس رات کھانے کے ساتھ ساتھ بن بلائے مہمانوں کی حفاظت نے بھی ہلکان کیئے رکھا۔بے چارے نہ ڈھنگ سے کھایا نہ سو پائے۔
ہیرو کیلئے۔
زندگی سے ڈرتے ہو زندگئ تو تم بھی ہو۔ یہ بھائی زندگئ کی ہر چیز سے ڈرتے تھے تنگ جگہ، اونچائی، اور فتنی لوگائی۔ ماشا اللہ سے ہر خوف ان پر مسلط ہوا ۔ یہ بھائی اتنے شریف تھے کہ ارینج میرج کرنے لگے مگر اتنے منحوس تھے کہ پھپو کی سو بیٹیوں پر بھاری دلہن ملی۔ ایک فائدہ ہوا انہیں کہ اب باقی سے خوف پس پشت ڈال کر بس ایک خوف لاحق رہے گا انکو کہ انکی بیوی اب کیا چاند چڑھائے گی۔ یہ ویسے تھے منحوس ہی۔ آخری منظر تک جب انکے دل کی کلی کھلنے ہی والی تھی فلم کے ہدایت کار نے کٹ کہہ کر کریڈٹس چالو کردیئے۔ بے چارہ
ہیروئن کیلئے۔
حرام خور کمینے ذلیل لڑکوں سے دوستی کرو اپنی سہیلی کے ہاتھوں دھوکا کھائو اب اماں ابا جو بھی للو پنجو ڈھونڈیں گے وہ اچھا ہی لگے گا۔ یہ باجی تیس مار خان تھیں جو جو گن انکے کھلے یہ اگر سچ مچ کسی خاتون کے سہاگ رات پر اپنے شوہر پر کھلتے تو صبح ہی طلاق لیکر میکے پہنچ جاتیں۔ مگر انکی قسمت انکو ارینج میرج میں ایسا بچا کھچا گھونچو ملا کہ انکی زندگی بن گئ۔ پھر انہوں نے وہی کیا جو کوئی لڑکی کرتی۔ جی اس گھامڑ گھونچو کو کمینہ ذلیل ٹھرکی انسان یعنی اپنے سابقہ محبوب جیسا بنانے میں جت گئ۔
ذاتی رائے۔
بہت مزے کی فلم نہیں ہے مگر بہت بری بھی نہیں ہے۔ جلدی جلدی کہانی چلی اسٹنٹ اچھے تھے گھمن گھیریاں بھی اچھی تھیں ۔ہیرو کا شرافت کا چولہ اتار کر پول ڈانس کرنا بھی کچھ الگ تھا پہلی بالی ووڈ فلم جس میں ہیروئن کے بجائے ہیرو کی عزت دائو پر لگائی گئ۔ نیٹ فلیکس پر 1.5 کی رفتار پر آگے کر کرکے دیکھی جا سکتی ہے۔
Desi Kimchi ratings: 3/5
بس گندی سندی نہیں تھی فلم جبھی 3 نمبر دے دیئے۔