Site icon Desi Kimchi |desi kdrama fans|

پرانا پی ٹی وی ڈرامہ ‘عروسہ’: 1992 سے 2026 تک کا تہذیبی سفر

پی ٹی وی کے ڈرامے اور آج کا تقابل: چند اہم نکات

میرے سامنے یوٹیوب پر عروسہ ڈرامہ آیا۔ اور میں نے دو تین دن میں ختم کرلیا۔ یہ ڈرامہ بہت پرانا ہے اس میں مشی خان اور عدنان صدیقی چھوٹے چھوٹے سے ہیں تو سوچ لیں۔
اس ڈرامے کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ جب تک پی ٹی وی تھا تب تک اخلاقی ، مزہبی اور معاشرتی قدروں کے لحاظ سے ڈرامے بنتے تھے۔ اور 2026 میں بھی یہ ڈرامہ بنج واچ کرکے بھی میں بور نہیں ہوئی۔ اور سب سے بڑھ کر جو تمیز اور تہزیب دیکھنے کو ملی میرا خیال ہے پی ٹی وی کو اپنے تمام پرانے ڈرامے یوٹیوب پر اپلوڈ کردینے چاہیئے تاکہ نئی نسل کو پتہ لگے تمیز تہزیب کس چڑیا کا نام تھا اور ہم 1992 میں کہاں تھے اور تیس سال بعد کتنا نیچے گر چکے ہیں۔
کہانی ہے ایک پڑھی لکھی وکیل خاتون انجم خان کی جنہوں نے ایک رنڈوے اپنے سے عمر میں بڑے ایک بچی کے باپ سے شادی کی سہارے کیلئے۔ 1992 میں ایک خاتون کا اکیلے رہنا مشکل ہوتا ہے اسلیئے انکے سرپرستوں نے یہ شادی کروادی۔ شوہر توفیق احمد کی دو بہنیں ہیں ایک شادی شدہ دو بچوں کی ماں اور ایک غیر شادی شدہ جو انہی کے گھر میں رہتی ہیں۔ یہ تینوں بہن بھائی بے پروا کم ظرف باپ اور جاہل ماں کی اولاد ہیں انکے آپس کے جھگڑوں سے ان میں بہت سی خامیاں ہیں۔ توفیق احمد بیرسٹر بن چکے ہیں مگر دونوں بہنیں جاہل ہیں۔نتیجہ یہ انجم خان کو بہت تنگ کرتی ہیں انجم کی بھی ایک بیٹی ہوگئ ہے عروسہ جو دو سال کی ہے۔سوتیلی بیٹی عارفہ کو نندیں بھڑکاتی ہیں کہ یہ سوتیلی ماں ہے۔ مستقل دو جاہل خواتین سے مقابلہ کرتے تنگ آکر وہ شوہر سے فیصلہ لینے کو کہتی ہے۔ شوہر بہنوں کی بے جا حمایت میں اسکو رات گئے طلاق دے کر نکال دیتا ہے۔ بنا بچی یہ عورت ایک شوہر کے ہی مہر کے نام پر دیئے کوارٹر میں جا رہتی ہے جہاں سامان نہیں جہاں پینے کا پانی تک نہیں۔ ادھر بچی ماں کی جدائی میں بیمار پڑ گئ اور وہی پھپیاں جو بھڑکا رہی تھیں اب بڑی بچی کے بعد چھوٹئ بچئ کی بھی ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہ ہوئیں۔ آخر ملازموں کو رحم آیا اور صاحب سے چھپ کر بچی ماں کو پہنچا دی۔ اب انجم خان نے اس بچی کی پرورش شروع کی اور سترہ سال بیت گئے۔ سترہ سال بعد پہلی بچی عارفہ جس کو پھپیوں نے پالا وہ تنک مزاج غصہ ور ہے اپنی پھپیوں کی سب حرکتوں سے واقف اور پڑھئ لکھی ہونے کی وجہ سے باپ کو انجم خان کے معاملے میں قصوروار سمجھتئ ہے اور اپنی بہن کو ڈھونڈنا چاہتی ہے جبکہ انجم خان جو وکیل خاتون ہونے کے باوجود بچی کی پرورش میں نہایت چوکنا اور سخت ہیں انکی بیٹی نہایت حلیم الطبع سادہ اور معصوم ہے۔
اب کہانی آگے بڑھتئ ہے آخر کیا بہنوں کی ملاقات ہوگئ انکے مزاج کا فرق آڑے آئے گا طلاق کے بعد کون ذیادہ پچھتایا انجم خان یا توفیق احمد
کہانی میں انجم خان کو پچھتاتے دکھایا کہ اگر اسکا مقابلہ جاہل خواتین سے تھا تو وہ تو پڑھی لکھی تھیں اگر سمجھوتہ کرتیں تھوڑا برداشت کرتیں تو شائد کبھی حالات حق میں ہوجاتے۔ دو گھریلوں جاہل خواتین کو برداشت نہ کرسکیں اور ایک چھوٹئ بچئ کے ساتھ زمانے کے اتنے سرد و گرم جھیلے کہ سوچا کاش تھوڑا سا تحمل میں ہی دکھا دیتی۔۔
توفیق احمد جو بہنوں سے بے تحاشہ محبت کرنے کے باوجود اپنی بیٹی کے منہ سے اپنی کوتاہیاں سنتے ہیں تو آخری سانس تک پچھتاتے ہیں۔ انکے غصے اور جزباتی پن نے سب سے ذیادہ انکو خود اور اسکے بعد انہی کی بن ماں کی بیٹی کو نقصان پہنچایا۔ ایک پڑھی لکھی سمجھدار ماں کی گود میں پل کر انکی عارفہ بھی عروسہ جیسئ بن سکتی تھی۔ یہ آدمی کامیاب بیرسٹر مگر بالکل تنہا اور ٹوٹا ہوا انسان ہے۔جس نے ایک عمر رفاقت کے بنا گزاری اپنے جزباتی پن پر طلاق کی دوسری رات سے جو پچھتانا شروع کیا یہ پچھتاوا زندگی بھرکا روگ بن گیا۔
دوسرا تقابل یہ تھا کہ دبے دبے ماحول کی جاہل خواتیں نے ایک لڑاکا طیارہ عارفہ تیار کیا جبکہ ایک خود مختار نئے دور کی خاتون نے میٹھی گولی گھریلو سی عروسہ تیار کی۔ دونوں ہی جانب انتہائیں تھیں۔

پاکستانی معاشرت اور پی ٹی وی کے ڈرامے


ڈرامے میں مزید کردار بھی ہیں ایک پڑوسی کا کردار تھا جس میں باپ بیوی پر ہاتھ اٹھانے لگا تھا غصے میں اور بیوی نے واقعی اتنا ہی عاجز کیا تھا اتنا ہی غصہ دلایا تھا کہ وہ مشتعل ہوگیا لیکن یہ تھپڑ ٹی وی پر دکھایا نہیں جا سکتا تھا۔ بیٹے نے آگے بڑھ کر باپ کو بھینچ کر گلے لگا کر روک دیا۔ نہ اسکا اٹھا ہاتھ روک کر ماں اور باپ کے بیچ آیا نہ غصے میں سہی ماں کو غلط سمجھتے سہی باپ کو ماں پر ہاتھ اٹھانے دیا۔
یہ تھیں وہ اقدار جن کی وجہ سے اس وقت خال خال ہی سنائی دیتا تھا گھریلو تشدد۔ مشترکہ خاندانئ نظام تھا تو دس لوگ بیچ میں صلح کروانے آبیٹھتے تھے مگر معاملات سنبھال لیئے جاتے تھے۔ ایک اور جگہ توفیق احمد اپنی بہنوں کی جہالت اور بدتمیزی پر مشتعل ہوتے ہیں مگر نہ انکے منہ سے کوئی غلط جملہ نکل پاتا ہے نہ ہی وہ اپنی بہنوں پر ہاتھ اٹھانے کا سوچتے بھی ہیں۔ حالانکہ ایک منظر میں انکی چھوٹی بہن جہالت کا مظاہرہ کرتی گلدان اٹھا کر انکی بیٹی کو مارنے جا رہی ہوتی ہے جس پر وہ بیٹی کو منظر سے نکل جانے کا حکم دیتے ہیں ۔ بدتمیزی کرتی بیٹی باپ کے ایک جملے پر کمرہ چھوڑ دیتئ ہے اور بہن کے ہاتھ سے وہ گلدان پکڑ کر واپس رکھ دیتے ہیں۔
اس ڈرامے میں بڑی پھپو کے بیٹے آوارہ منش دکھائے گئے ہیں بڑی بڑی غلطیاں کرتے ہیں مگر اس سب کے باوجود بھی وہ بد کردار نہیں دکھایے گئے آخری قسط میں شرمندہ اور ملول دکھائے گئے۔
سب سے دلچسپ آخری منظر میں ہیرو کو انگوٹھئ اسی ولن نے پہنائی عروسہ کی جانب سے۔
مجھے اس ڈرامے میں اتنے اسباق دکھائی دیئے کہ سوچ رہی تھی کہ بجائے ہمارا ڈرامہ آگے بڑھتا نت نئئ جہتوں کو متعارف کراتا 2026 کا ڈرامہ 1996 کے ڈرامے سے بھی تیس سال پیچھے ہیں۔اس ڈرامے میں عارفہ لندن سے پڑھ کر آئی تھی مگر سر سے دوپٹہ نہیں ہٹتا تھا ایک بار عارفہ کو اسکے شوہر نے طعنہ دیا کہ تم سے شادی نہ کرتا تو تم بیٹھی رہ جاتیں تو اسکی ساس غضب ناک ہوگئیں اور بیٹے کو یہ تک کہہ دیا تم خود کیا چیز ہو تم شادی نہ کرتے تو تم سے بہتر انسان سے اسکی خود شادی کرواتی۔
یہ تھی وہ تمیز جو ڈرامے سکھاتے تھے۔جن سے معاشرے میں امن رہتا تھا لوگ آٹھ بجے سب کام چھوڑ کر بیٹھتے تھے تو کچھ سیکھ کر اٹھتے تھے۔ یہ بھی ایک ناول کی ہی ڈرامائی تشکیل تھی۔ اب اگر کسی ڈائجسٹ رائٹر کا لکھا پڑھیں تو عارفہ تو چھوڑ عروسہ جیسی لڑکی بھی کسی کردار میں نہ ملے گی۔ سب ایک دوسرے کو پیٹ رہے ہیں چلا رہے ہیں برابھلا کہہ رہے یا رومانس کے نام پر پھکڑ پن دکھا رہے جبکہ اس پورے ڈرامے میں کسی نے فالتو ہاتھ نہیں پکڑا کسی کا۔ مگر یہ سب کرداروں میں لگے گا ہی نہین کہ کوئی اداکاری کررہا ہے کسی کا رونے سے میک اپ خراب کوئی بری لگ رہی کسی کے بال خراب ہوگئے مگر اب پٹ پٹا کر بیٹھی ہیروئن کا کاجل تک نہیں پھیلتا چہرے کے تاثرات نہیں بدلتے۔ پھر حیران ہوتے ہیں لوگ پاکستانی ڈراموں سے بیزار کیوں ہورہے۔۔۔

ایکتا کپور’ سنڈروم اور آج کا ڈرامہ


ایکتا کپور کی وجہ سے۔ اس نے جو گھریلو سازشوں والے بند ذہنوں کے ڈرامے بنائے اس نے انڈیا کی ڈرامہ صنعت برباد کی اب ہماری ہورہی ہے۔جہاں کوئی لڑکی باہر سے پڑھ کر نہیں آتی ، جہاں کوئئ ساس پڑھی لکھی نہیں ہے۔ جہاں کوئی شوہر بیوی کی عزت کرنے والا نہیں جہاں کوئی بھائی بہنوں کی محبت میں برباد ہوجانے والا نہیں۔ ان کرداروں کو اب آپ اپنے معاشرے میں نہیں دیکھ سکتے ہاں کومولیکا پریرنا اکشرا اور تلسی اور انکی نندوں ساسوں جیسی خواتین جا بجادکھائی ..دیں گی پاکستانی ڈراموں میں

نکاح نامہ کی شقیں اور ڈرامہ عروسہ


ایک چیز میں لکھنا بھول گئ تھئ اس ڈرامے کا عارفہ کے نکاح کا منظر اتنا خوبصورت تھا کہ کیا بتائوں
باقائدہ نکاح نامے کی شقوں پر بات کی گئ تھی ، حق مہر ، ماہانہ خرچ باقائدہ لکھوایا گیا ، طلاق کا حق دیا گیا اور اس پر اتنی سیر حاصل گفتگو ہوئی کہ مجھے حیرت ہوئی یہ ڈرامہ کتنا اہم سبق زندگئ کا پڑھاچکا ہے اور آج تک خواتین کے مسائل وہی ہیں کہ نکاح نامے کی یہ سب شقیں کاٹ دی جاتئ ہیں بدمزگی کے ڈر سے۔۔

Exit mobile version