Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

Cast away diva
یہ دیکھا اور دیکھنے کی وجہ بنی ہیروئن جو کہ انتہائی جنگلی انداز سے کھانا کھا رہی تھی ۔ اور اسکو دیکھ ریے تھے دو پیارے سے لڑکے۔ جی صحیح سمجھے انہی دو لڑکوں کی وجہ سے دیکھا۔ 🤭
ہاں تو کہانی ہے ایک عدد سولہ سالہ لڑکی کی جو پاگل ہے ایک گلوکارہ کے پیچھے اور اسکے شو میں اسکی کال ملنی تھی اور اسکے موبائل کی بیٹری ختم تھی۔ اس نے مانگئ اپنے کلاس فیلو سے فون بیٹری جس کے اس نے ہزار وون مانگے۔ اب جانے انکے ہزاروون انکے کتنے بنتے تھے لیکن سولہ سال پہلے کا زمانہ ہے تو ہمارے یہاں ہزار روپے میں نیا فون آجاتا تھااور ہمیں اس زمانے میں فون سے ایسے دور رکھا جاتا تھا جیسے فون کوئی لاعلاج بیماری ہو ۔ خیر یہ موصوفہ ہیں ہیروئن اور لالچی لڑکا جو بیٹری کے ہزار وون مانگ رہا تھا ہے ہیرو۔ہیروئن صاحبہ نے گلوکارہ بننا ہے اور اسکے لیئے کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ مگر کچھ کر نہیں سکتیں کیونکہ ابا ظالم ہیں پیٹتے ہیں انہیں اور انکی گلوکاری ناک کے ذریعے نکال دیتے ہیں۔ اس ہیروئن کو دیکھ کر اپنے زخم ہرے ہوتے محسوس ہوئے۔ میں بھی گلوکارہ ہوتی صف اول کی اگر پاکستان میں بھی آئیڈل کلچر ہوتا میرے والدین بھی ہیروئن کے والدین جیسے نہ ہوتے اور میرے گانے پر مجھے قیامت سے ڈرایا نا جاتا۔ ہک ہا۔۔ خیر ہیروئن اور ہیرو کا ایک درد مشترک یے۔ انکے ابا ظالم ہیں روئی کی طرح دھنک دیتے ہیں اپنی اپنی اولادوں کو اس سے گھبرا کر ہیرو فیصلہ کرتا ہے ہیروئن کی مدد کا اور دونوں گھر سے بھاگ کر سیول جانے کا پروگرام بناتے ہیں۔جہاں ہیروئن اپنی میوزک ویڈیو کے ذریعے ایک مشہور کمپنی میں اسپانسر شپ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اب ہوتا یوں یے یہ دونوں رہتے ہیں ایک جزیرے میں اور کشتی کے ذریعے بھاگنا ہوتا ہے کشتی میں بیٹھے ہیرو کو ہیروئن کے ابا نظر آتے ہیں وہ ہیروئن کو چھوڑ کر اسکے ابا کو پکڑ لیتا ابا ہیرو کو اپنی اولاد کی طرح پیٹ کر کشتی میں چڑھ جاتے ہیں بیٹی کو پیٹ  کر اپنا معمول پورا کرنا چاہتے ہیں کہ بیٹی سمندر میں کود جاتی ہے ابا اسکے پیچھےکود جاتے ہیں اور دونوں ایک جزیرے میں جا پہنچتے ہیں ۔ ابا مر کر لڑکی زندہ۔ اب یہ لڑکی سولہ سال اسی جزیرے میں تنہا رہتی ہے اور ایکدن ہیرو اور اسکا بھائی پہنچ جاتے ہیں جزیرے میں کوڑا چنتے ہیروئن بچ جاتی ہے اب ہیرو نے اپنا نام بدل لیا ہے۔ دو لڑکے ہیں جی بھر کر دماغ لڑائو کہ کونسا والا اصل ہیرو ہے۔ ایک ہیرو صحافئ ہے اور ہر طرح سے اسکی مدد کر رہا اور میرا یقین یہی ہے کیو نکہ یہ مجھے ذیادہ پیارا لگا ہے تو دوسرا ہیرو ہوگا۔
ڈرامہ جلدی جلدی چلتا رہا ہیروئن کو فضول میں سولہ سال دنیا سے کاٹ دیا ایسے جزیرے میں پھینکا جہاں کوئی انسان نہیں تھا سکون سے رہنے کی بجائے واپس دنیا میں آکر آئیڈل بنے گی مطلب دماغ کی دہی۔ 7 اسکیپ کی طرح بللیاں مطلب نیلی ٹینکیاں مل گئیں آلو کے کھیت مل گئے سولہ سال میں کپڑے پھٹے ہی نہیں اور کوئی ضرورت تو بی بی کی تھی ہی نہیں جیسے پھر اسے کوڑے میں سمندر کے درجن بھر چھتریاں اور جانے کیا کیا اور جب سکون سے رہ رہی تھی تو تکلیف کیا ہوئی واپس آنے کی۔ ایک جگہ ہیرو بتاتا ہے ایسے دو تین سو جزیرے ہیں کوریا کے پاس مطلب کیوں بھئ؟ سب کچھ کوریا کے پاس کیوں ہے؟ پاکستان میں ایسے جزیرے کیوں نہیں؟ مجھے پھینک آئو پلیز ایسے کسی جزیرے میں۔
کوریا کے ہی جزیرے پھینک آئو بھی سیول تو جانے نصیب میں ہے کہ نہیں سکون چاہیئے بس ۔ اور دیکھ لو ڈرامہ مجھے جانے کیوں اس لڑکی سے بغض ہے۔ ذرا اچھی نہیں لگتی اوپر سے دھڑا دھڑ ااسکو ڈرامے مل رہے۔ کنگز افیکشن میں تو زہر لگی تھی مجھے اس میں بھی اسکی جگہ کسی اور کو رکھ لیتے بھئ  مجھے نہیں پسند یہ بالکل بھی۔
تیسری قسط شائد دیکھوں۔۔۔۔۔ اسکی وجہ سے شائد ادھورا بھی چھوڑ دوں۔۔تم لوگوں کی مرضی
Desi kimchi ratings: 3/5
پیارے لڑکوں کی وجہ سے 3 دیا۔ ورنہ 2 ہی دیتی۔

“>> » Home » Korean drama first episode review in urdu » Cast away Diva first impression urdu review

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: