Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

کے ڈرامہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انکی کہانی آپکو اپنا سر کھجانے پر مجبور کر دیتئ ہے۔ ہمیشہ کوئی دیو مالائی طاقتوں سے مزین ایک مخلوق دکھائی جائے گی مگر احمق اپنی خفتہ صلاحیتیوں سے تنگ آپنے آپ کو کوستی اور اس طاقت سے چھٹکارا پانے کے طریقے ڈھونڈتی دکھائی دے گی۔ مطلب کیوں بھئ؟ کیا مسلئہ ہے خاص ہو خاص رہو۔ خیر ڈزنئ چینل کیلئے بنی سیریز کنیکٹ دیکھی۔ ہے ان کے پیچھے۔ حالانکہ وائل یو ور سلیپنگ کے بعد جب اس پر تازہ کرش تھا اسکے جتنے ڈرامے دیکھے سب بکواس نکلے۔ صرف Deserted pursuit اچھا لگا تھا۔ خیر کنیکٹ لگایا۔ پہلی قسط میں ہیرو اغوا ہوا وہ بھی اعضاء نکال کر بیچنے والے درندے نما انسانوں کے ہاتھوں۔ موصوف کی سب سے پہلے آنکھیں نکال کر ڈاکٹر نے طشتری میں سجا دیں۔ اب آنکھیں ہیں کہ طشتری میں رخ موڑ موڑ کر ہیرو کو گھو ررہی ہیں۔ڈاکٹر نے انکو ڈانٹا بھئ مگر نہیں سنا انہوں نے پھر رخ موڑ کر دیکھنے لگیں۔ ہیرو صاحب ہوش میں آئے تیزی سے اٹھے ایک آنکھ لپک کر واپس لگائی دوسری ہڑ بونگ میں گر گئ اب ڈاکٹر یہ دیکھ کر غنڈوں کو بلانے بھاگا یہ ہڑبونگ میں بھاگے دوسری آنکھ اٹھانا بھول گئے۔ اب دوسری آنکھ کا حال سنو۔ ہیرو موصوف گھر میں بیٹھے گٹار بجا رہے تھے ہہ اچانک آنکھ میں دردہوا وہ بھی اس آنکھ میں جسے وہ عجلت میں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اب انکو دکھائی دیا وہ سب جو وہ آنکھ دیکھ رہی تھی۔ یہ آنکھ لگی ہوئی تھی ایک عدد مرحلہ وار قتل کرنے والے سفاک قاتل کے چہرے پر موصوف فنکار ہیں اور لاشوں پر فن پارے تخلیق کرتے ہیں۔ واہ۔ مگر لاشیں لائیں کہاں سے؟ وہ اسکے لیئے اپنی مرضی کے لوگوں کو لاش بنا کر اس پر اپنے ہنر آزماتے ہیں۔
اب اس میں حیران کن بات کیا ہے ؟ بات یہ ہے کہ ہیرو کے سب جسمانی اعضا پورٹ ایبل ہیں۔ یعنی الگ ہوتے ہیں اور ان میں سے کیچوئوں جیسے کچھ دھاگے نکلتے ہیں اور پورا جسم خود بخود انکے ذریعے جڑ جاتا ہے۔ ایسی مخلوق پیدا ہوگئ ہے جانے کیوں اگلے سیزن میں پتہ لگے گا مگر اس مخلوق کو کہتے ہیں کنیکٹ۔اب ایسا انسان کتنا خوش نصیب ہوسکتا ہے۔ خاص کر ہم پاکستانی گھرانوں میں جب آپ پب جی کھیلنا چاہ رہے ہوں اور امی دہی منگوا لیں تو آپ اپنی ایک آنکھ اور ایک ہاتھ بلکہ دونوں چھوڑ کر آرام سے باہر جائیں سودا سلف لیں۔ پاکستانی تو ہمدرد طبیعت رکھتے ہیں کچھ بعید نہیں کوئی پڑوسی ترس کھا کر آپکو دکان سے گھر تک دہی اٹھا کر دے جائے پیسے بھئ نہ لے اور پب جی پر آپ آرام سے چکن ڈنر کریں اور جب امی کسی فالتو خاندانی تقریب میں زبردستی لے جانا چاہیں تو سر گھر چھوڑ جائیں نہ کچھ دیکھیں سنیں گے نہ دل جلے گا الٹا سب سے مصافحہ کرنے کو باقی جسم موجود ہوگا۔ اتنے فائدے ہوتے مگر ہیرو نے کیا کیا ؟ رونا دھونا مچا دیا کہ سب مجھے بھوت کہتے ہیں۔ حالانکہ بھوت ہاتھ لمبے کر لیتے یوں توڑ تاڑ کر جوڑتے نہیں خیر۔
کہانی سے سبق ملتے ہیں۔
انسپیکٹر کیلئے۔
ناک سے خون نکلتا ہو تو اپنی تجسس کی حس کو سکون دیا کرو ۔ اور اپنے ساتھی کو الٹی سیدھی آواز سے نہ ڈرایا کرو ۔ اور ساتھیوں کیلئے سبق ہے کبھی کھڑکی سے نہ جھانکو وہ بھی سر اندر کرکے پہلے ٹھونک بجا کے دیکھ لو کوئی ہے تو نہیں بے چارہ بھاگتا آیا کھڑکی سے گردن اندر کی اور ولن اوپا نےگھونپا چھرا وہ بھی تھوڑی سےاوپر۔اف کیا منظر تھا۔۔ بے چارہ
اعضا ء کا کاروبار کرنے والوں کیلئے۔
کنیکٹ ڈھونڈو مگر یاد رکھو تم لوگ خود کنیکٹ نہیں ہو۔ بے چاروں کے سر الگ ہوئے تو واپس لگے ہی نہیں۔
بھرتی کے کرداروں کیلئے۔
بھئ تم لوگ کچھ بھی کرلو مروگے وہ بھی کتے ہی موت۔
ولن اوپا کیلئے۔
اتنا ذہین فطین انسان اسکو ہیرو ہونا چاہیئے تھا۔بے خود مضبوط قوت ارادی ( پیارا بھی) اوپر سے کمینہ رج کے اوپر سے کینسر کا مریض۔اتنا ذہن اس نے چلایا ہے کہ اسکا آدھا بھی اسد عمر کا چلتا ہوتا تو عمرانی دور میں معیشت کا اتنا بیڑا غرق نہ ہوتا۔ موصوف نے پلان بنایا کہ کنیکٹ کے اعضاء اپنے سے ردوبدل کرلیں تاکہ کینسر سے کنیکٹ مر جائے اوروہ امر ہو جائیں۔ اور
Spoiler alert
چونکہ سیزن ٹو آنے والا ہے آخری منظر میں شک گزرا کہ یہ منصوبہ کامیاب بھی ہو گیا ہے۔
کنیکٹنی کے لیئے۔
موصوفہ نے جس جان فشانی سے اپنے لیئے رشتہ ڈھونڈا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ ایسی لڑکیوں کیلئے ستی ساوتری وفادار عورت جیسی مثالیں بنائی گئ ہیں۔ یہ کوریا کی اکشرا ہیں۔بلا مبالغہ۔ ہر خطرے میں خود چھلانگ مار مار کر گھس کر جس طرح ان خطروں سے ہیرو کو بچایا اس پر سلوٹ۔
کنیکٹ کیلئے۔
بندہ اتنا فارغ بھی نہ ہو۔ یہ بندہ پکڑ پکڑ کر سب کو بتاتا رہا ہے میں کنیکٹ ہوں میرے ساتھ یہ مسلئہ وہ معاملہ مجال ہے جو کسی کی مدد ملی ہو۔اوپر سے مانا درد بہت ہوتا مگر اگر پھنسے بیٹھے ہو تو کیا بہتر نہیں اپنے ٹکڑے ٹکڑے کر لو تاکہ بچ تو جائو اگلا انگلی کاٹ رہا سر کاٹنے کی دھمکی دے رہا یہ بے بس ہوئے بیٹھے ہیں۔ اس بدھو ہیرو سے بہتر مجھے کنیکٹ بنا دیتے۔ سچی اتنا فائدہ اٹھانا تھا۔ائیر پورٹ جاتی کسی کوریا کے مسافر کا سامان ڈھونڈ کر مزے سے ہاتھ پائوں اتارے بیگ میں بند ہو کر کوریا پہنچ جاتی۔ اس مسافر کے سفری سامان کے ساتھ وہاں جا کر جوڑ لیتئ میں خود کو۔ اور ہیونگ سک کے تو میں نے پکا ایک آنکھ نوچ کے اپنی لگا دینی تھی۔ دونوں کنیکٹ اچھا چھوڑو۔ مجھے شمو آرہی
ذاتی رائے۔
دیکھو۔ کوئی حرج نہیں۔ آخر ڈزنی والوں نے اتنی محنت سے اتنا احمقانہ نظریہ متعارف کرایا ہے اوپر سے صرف چھے اقساط وہ بھی آخری قسط میں بڑے بڑے دیو ہیکل ہیلی کاپٹر جو اڑتے آئے اس سے صاف لگا کہ سیزن ٹو بھئ آئے گا تو دیکھ لو ایویں سیزن ٹو بھی جمع ہو جانا ہے پھر۔ میں تو ابھی تک الیکمی آف سولز کو رو رہی پہلا ہی بونگا طویل ترین سیزن شیطان کی آنت جیسا ختم نہیں ہوا میرا اگلوں نے دوسرا بھی لانچ کر دیا مطلب حد ہے۔

Desi kimchi ratings: ⅘


صرف ہے ان کی وجہ سے بہت پیارا لگا ہے اس میں مجھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: