Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

سونے کا چمچہ دیکھا۔
پہلا خیال یہ آیا کہ اسکا نام تو آئییے ابا بدلیئے ہونا چاہیئے تھا۔
کہانی ہے ایک عدد نہایت سلجھے ہوئے سمجھدار محنت کش لائق فائق خودغرض ہائی اسکولر کی جو اپنے غربت بھرے حالات سے نالاں اور ابا سے شاکی ہے۔ کمینہ اتنا کہ تھپڑ کھانے کے بھی پیسے لیتا ہے۔ اور اپنے اسکول کے بگڑے امیر زادے کے ہاتھوں اپنی عزت کا روز دیوالیہ نکلواتا ہے۔ انکے دوست بھی کم و بیش انکے ہی جیسے حالات سے گزر رہے تھے ایکدن خوشی خوشی آئے اپنے نئے فیشن کے مطابق قیمتی جوتے دکھائے کہ اماں نے دلائے ہیں مگر شکل پر انکی بارہ ہی بجے تھے۔ وجہ؟ اماں ابا اور بہن بھائی جو بھی تھا سب نے اجتماعی خود کشی کر لی تھی انکو جوتے دلانے کی خوشی میں۔ کہ قرضے ادا کرنے کے پیسے نہیں تھے مگر جوتے دلا کر سب قرض داروں کو بیٹے کے پیچھے لگاکر ابدی نیند سوگئے۔ اب یہ لڑکا عقل مند کہو یا عقل بند دونوں اس پر فٹ بیٹھتے۔یہ جوتے پہنتے ہیں اور خود بھی جا مرتے ہیں۔ اب بندہ پوچھے او بھائی نئے جوتے پہن کر گھس کر شوق تو پورا کر لیتے ۔ ہوئے نا عقل بند ؟ اب پوچھو عقلمند کیسے تھے ایسے کہ جب سب کے مرنے کے بعد قرض داروں نے گھر آنا تھاتو یہی جوتے سر پر بجانے تھے سو عقلمندی کی ۔ اب کم از کم سکا بھوت وہ جوتے تو پہن کر پھرے گا۔ خیر واپس آتے ہیں ہیرو کی طرف۔ موصوف کا دل ٹوٹ پھوٹس ۔ گھر آتے ہیں گھر میں انکا بھی مالک مکان کرایہ نہ ملنے پر تماشے لگا رہا ہے انکے گھر میں ماں بہن اور ابا بھی ہیں۔ ماں بہن سے پھر محبت یے ابا جو کارٹونسٹ ہیں ان سے ذرا برابر ہمدردی نہیں۔ مالک مکان کو بتا دیتا ہے ابا کونے میں چھپے بیٹھے ہیں۔پھر جو طبل بجے خیر
اب آتے ہیں دوسرے ہیرو کی طرف۔
یہ سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئے ہیں۔ امیر کبیر مگر باپ سے ڈرتے کانپتے ہیں۔ اب اتنا امیر باپ ہو تو کیا حرج ہے ذرا سا کپکپانے میں۔ مگر نہ جی ہر وقت اداس دکھی ہیں۔ ماں کو یاد کرتے ہیں حالانکہ ماں کی جگہ بڑی بہن کی عمر کی سوتیلی ماں ہے انکی ۔
خیر اب ہوا کچھ یوں کہ چلتے چلتے ہیرو کو ایک مخبوط الحواس بڑھیا ملی جو سونے کا چمچہ نہایت سستے میں اسے بیچ رہی تھی کہ سونے کا چمچہ لو امیر ہوجائو۔ بس شرط تھی۔ کسی امیر گھر میں دو مرتبہ اس چمچ سے کھانا کھالو۔
ان موصوف نے بجائے اسکے جو لڑکا پیٹ پاٹ کر ناک میں دم کرتا اسکے گھر کھانا کھانے پہنچتا او رگن کر بدلے لیتا، کھایا سائیڈ ہیرو کے گھر۔ بن گیا امیر کبیر۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
کہانی اصولا ختم ہوتی ہے یہاں۔ پر جی یہاں سے شروع ہوا روائتئ ٹچ۔ اب امیر کبیر بن کے احساس ہو رہا ہے کہ ہر چیز پیسہ نہیں ۔امیروں کے دکھ بڑے جو کہ بکواس ہے۔ امیر بندہ دکھی ہو کر دکھ دور کرنے کیلئے کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ اس ڈرامے کو دیکھیں تو پتہ لگے۔
ساری مزےدار کہانی یہی تھی اب کہوگے ہیروئن کہاں گئ۔ جی ہیروئن کا بس اتنا ہی کام ہے کہ وہ ہیں۔ امیر کبیر خاندان کی سوتیلی بیٹی ہیں۔ پیسہ بہت ہے مگر پاپا کی پری کنوینیئنس اسٹور میں ابا بدلنے سے پہلے ہیرو سے ملیں فدا ہوگئیں اب ہیرو بدل چکا مگر یہ اسی سائیڈ ہیرو پر مر رہی ہیں۔ انکی ایک عدد سہیلی بچپن میں مر چکی ہے جسکے ابا انکے پیچھے ہیں بس۔ اتنی ہی دلچسپ کہانی ہے۔ انکی۔
ہاں تو ابا بدل اسکیم صرف ہیرو نے نہیں استعمال کی بلکہ اس ڈرامے میں مزید لوگ اس چمچ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ کون لوگ ہیں یہ کیسے کیا انہوں نے۔ جاننے کیلئے خود دیکھیے بھئ میں خلاصہ لکھ لکھ کر تھک گئ۔

Desi kimchi ratings: 4/5
دلچسپی عنصر ہے بھئ اس میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: