Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

فیل ہونے پر پہلا خیال کسی طالب علم کو خودکشی کا ہی آتا ہے۔ ہمارے یہاں والدین کے چھتر ہی اس خیال کو فروغ دینے کیلئے کافی ہیں۔ پھر بھی ہم چونکہ خوب ڈھیٹ ہیں پیدائشئ تو میٹرک انٹر کے امتحانوں میں فیل ہونے پر اکا دکا بچے خودکشیاں کرتے ہیں ۔ مگر کوریا میں خود کشی کا اتنا رجحان ہے کہ اہم امتحانوں کے نتیجوں کے بعد باقائدہ ہنگن ریور وغیرہ پر پولیس تعینات کی جاتی ہے تاکہ بچوں کو خود کشی سے روکا جا سکے۔مگر اگر فیل ہونے پر مرنا ہی آپکا مقدر ہو تو ؟؟؟ میں بات کر رہی ہوں ڈرامے گریٹ شیمن گا دوشن کی۔ اس ڈرامے کی کہانی ہے ایک ہائی اسکول کی جہاں بچے فیل ہوتے ہیں تو آخری نمبر پر آنے والا بچہ خودکشی کر لیتا ہے۔اسلیئے نہیں کہ وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے بلکہ اسلیئے کہ اس اسکول میں ایک عفریت ہے جو سب سے نچلی پوزیشن پر آنے والے بچے میں گھس کر اس سے خود کشی کرواکر اسکی روح کھا جاتی ہے۔
کہانی کے آغاز میں گادوشن جو آٹھ نو سال کی بچی ہے اپنی دادی کے ہمراہ اسی اسکول کے بچے کو روکنے جا رہی ہوتی ہے خودکشی کرنے سے۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر دادی کی ٹانگوں میں دم نہیں رہتا اور وہ گادوشن کو منتر سکھا کر ایک اونچی عمارت کی چھت پر بھیجتی ہے جہاں وہ لڑکا قریب الخودکشی ہے۔ بچی کو منتر یاد ہے۔ منتر ہے میرے لفظ تمہیں باندھ رہے ہیں تم نے جو حاصل کرنا تھا کرلیا اب جائو۔
مطلب ؟ اب یہ کوئی منتر ہوا۔بجائے اس بھوت پر لعنت وانت بھیجتئ اسکو گالیاں دیتی یا مار تی پیٹتی یا مارنے کی دھمکی دیتی نتیجہ پھر وہی۔وہ عفریت چلی گئ مگر اس لڑکے کی جان لینے کے بعد دادی بھئ اسے بچاتے اوپر پہنچ گئ یہ کہتے کہ گادوشن اٹھارہ سال تک پہنچ گئیں اور مریں نہیں تو زندہ رہو گی ۔ یہ بات ویسے میں بھی گادوشن کے بارے میں کہہ سکتی ہوں یہ پیشن گوئی تو نہ ہوئی نا یہ تو فیکٹ ہے بھئ۔
کہانی سے سبق ملتے ہیں۔
سب فیل ہونے والے بچوں کو۔
مر جائو نہیں تو ابا اماں استادوں دوستوں اور دیگر کے طعنے مار دیں گے۔ سو مر جائو آگے مزید امتحان بھی نہیں دینے پڑیں گے۔ خیر یہ اس ڈرامے سے سبق ملا مگر تم لوگ میرا دیا سبق یاد رکھو
میٹرک انٹر میں فیل ہونے سے بچ بھی جائو تو پڑھائی سے بچنا ممکن نہیں۔ کچھ نہیں کچھ نہیں تو یونیورسٹی میں ناکام ہوگےوہاں بھی بچ گئے تو نوکری کے انٹرویو میں ناکام ہو سکتے ہو محبت میں ناکام ہو سکتے ہو شادی ناکام ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے تمہاری پوری زندگی ہی ناکامیوں سے پر ہو جائے مگر پھر بھی خود کشی مت کرو ایویوں ناکامیوں پر دنیا کو باتیں بنانے کا مزید موقع مل جائے گا اور آخرت میں بھی ناکام رہوگے
معاون کرداروں کیلئے
تم سب کا کام فیل ہونا ہے بس۔ باقی گادوشن اور اسکا ہیرو سب سنبھال لیں گے۔ ماشااللہ سے مدد کے نام پر ایسے ایسے پنگے لیئے معاون کرداروں نے کہ گادوشن کو اتارا کرنے کے بعد دو دو جوتے لگانے چاہیئے تھے
ہیرو کیلئے
بھئ پنگے لینے سے گریز کرو۔جن بھوت مزاق نہیں ہوتے اور نہ جنوں بھوتوں کا کام کرنے والے۔ گادوشن کو ہی دیکھ لو کیسا بہانے سے تم پر آسیب لادا او رپھر تمہارے پاس کوئی چارہ نہ رہا سوائے اسی سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے۔کوئی نارمل لڑکی تو پٹنے والی تھی نہیں ایسے بھوت بین قسم کے لڑکے سے۔ پتہ لگے ہیرو تمہارے کندھے سے جھانکتی بھوتنی سے خوف کھا رہا ہو اور تم پارلر والی کو گالیاں دو ذیادہ بیس لگا دی میرا بوائے فرینڈ ہی مجھ سے ڈر گیا۔ او رہاں دادیوں کے بھوت سے بچنے کا تعویز گلے میں ڈال کر پھرا کرو۔ کسی کی مرحومہ دادی اپنی پوتی کیلئے تمہیں پسند کر بیٹھیں تو تم میں حلول ہو کر پوتی کو گلے لگا لیں گی اور تمہیں مفت میں بدنام ہو کر اسی پوتی پر صبر شکر کرنا پڑ جائے گا
ہیروئن کیلئے۔
بی بی جتنی مرضی تیس مار خان بن جائو دادی نے تم سے تین نسلوں ذیادہ تجربہ حاصل کیا ہے۔اسکی دادی نے اسکو اتارا کرنے والی مائی بنا چھوڑا وہ بھی جھوٹ بول کے۔ ہر جگہ گادوشن کی مدد کرنے کو آجاتی تھیں کبھی ہیرو میں گھس گئیں کبھی سب بچوں کی روحیں لیکر آسمان میں اڑ گئیں۔ آنٹی جی سب خود ہی کرنا تھا تو گادوشن کو وہ فالتو منتر کیوں سکھایا ۔ بے چاری بھوت سے پٹ پٹ کر آدھی رہ گئ۔ مگر کبھی بھوت بھاگا نہیں اس سے۔ الٹا تمہیں ہی بھوت مارنے پڑے۔۔
ذاتی رائے۔
ایک تو پدا سا ڈرامہ اوپر سے شروع میں مزے کا بھی لگا دو قسطیں ہفتے بھر میں دس پندرہ منٹ کی آتیں اور جب تک سب ٹائٹل پورے ہوتے اگلی قسطوں کی باری عجیب جھنجھلا جھنجھلا کر ختم کرنا پڑا مگر اب ایک نادر مشورہ دینے کے قابل ہو گئ ہوں میں ویب ڈرامہ وہ بھی بائٹ سائز کبھی بھی پورا ہونے سے پہلے نہ دیکھنا شروع کرو ورنہ بور ہو کر رہ جائوگے۔۔ یہ دیکھو پورا سیزن ایک نشست میں دیکھو معصوم سا ڈرامہ ہے دیکھ لو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: