Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

Hitدیکھی۔ نیٹ فلیکس پر پڑی تھی تو دیکھنی پڑی۔ ہمیشہ انڈین فلم دیکھ کر پچھتاتی ہوں اور میری عقل دیکھو بار بار پچھتاتی ہوں۔ کہانی پر آتے ہیں۔کہانی شروع ہوتی ہے جھڑوس ہیرو سے جس کو تکلیف دہ یادیں یاد آتی رہتی ہیں او رہر اہم موقع پر یہ کانپنا تھرتھرانا شروع کر دیتے ہیں۔ موصوف پولیس افسر ہیں مگر لاش دیکھ کر الٹیاں کرتے ہیں۔ ذہین بہت ہیں جو کیس کسی سے حل نہیں ہوتا ان سے حل ہوتا ہے۔ موصوف کے ایک عدد جگری دوست ہیں جن سے وہ کتے کی طرح ہر کام کرواتے ہیں۔انکی لڑکیاں بھئ دوست ہیں ایک نفسیات دان دوست ہیں ایک سہیلی ہیں جو دل کے قریب ہیں اور دونوں کو انکی فکر ہے کہ ان پریشان کن حالات میں کہیں وہ ذہنی توازن نہ کھو دے سو اسے زبردستی چھٹیوں پر بھجوادیتی ہیں۔ اب چھٹیوں کا حال سنو۔ ایک نوجوان لڑکی نکلی گھر سے ہائی وے پر پہنچ کر گاڑی خراب ہوئئ ابا کو فون کرکے بلوایا ابا جب پہنچے تو غائب ہو چکی تھی۔ اب اس لڑکی کو ڈھونڈنا شروع کیا گیا۔ یہ صاحب سہیلی سے خفا گھر بیٹھے تھے کہ پتہ لگا سہیلی کم محبوبہ صاحبہ بھی غائب ہوچکی ہیں۔ اب انہوں نے اپنی محبوبہ کو ڈھونڈنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگایا۔ ہر بد شکل آدمی عورت کو شک کی نگاہوں سے گھورا سب کے گریبان پر ہاتھ ڈالے اور ۔۔۔۔۔۔ اف۔ کہانی سے سبق ملتے ہیں۔۔ نوجوان لڑکیوں کیلئے۔ غائب ہونے سے بچو ۔ اب کیسے بھئ یہ خود سوچو۔ جو غائب ہو رہا وہ فلم کے آخری دس منٹ سے پہلے سراغ نہیں دیتا سو غائب ہی مت ہو ورنہ ہٹ کا سیکوئیل دیکھنا پڑ جائے گاپولیس والوں کیلئے۔ اگر ہیرو نہیں ہو تو کمینے راشی خبیث بنو ۔شریف بنوگے تو سینے پر گولی کھائوگے وہ بھی صرف شرافت میں مارے جائوگے۔ اور ہائی وے پر بھی کبھی بھی کسی لڑکی کی مدد کرنے کا نہ سوچنا پھنسوگے۔ عجیب سبق ہے مگر اس فلم سے یہی سبق ملا۔ کہ لڑکی بری بلا ہے۔۔ دوسرا فرض شناس پوری فلم گالی کھاتا رہا پٹتا رہا ہیرو کے ہاتھوں اور ہیروجان بھی بچانا اسکا فرض ٹھہرا ۔ اور اس کا مسلئہ تھا اپنا کام خود کرنا۔ ہیرو اسکا کام کرنا چاہتا تھااور اسے کو کوٹ پیٹ کر اسکا کام اپنے ذمے لیکر کرتا رہا۔مطلب ہیرو نہیں ہو تو کمینے ۔۔۔۔ آف۔۔ ہیروئن کیلئے۔ باقی ہیروئنوں کی طرح تھر تھر کانپتی رہتیں یا تیس مار خان بنتیں۔ موصوفہ نے دونوں کام کیئے۔پہلے معاملوں کی بو سونگھئ پھر اغوا ہو کر جو بیٹھیں تو فلم ختم ہونے کو آگئی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب رہیں۔ یہ فلم میں نہ بھی ہوتیں تو فلم ٹھیک ٹھاک کہانی بڑھا لیتی مگر یہ دو مکالمے بول کر فوٹیج کھاتئ رہیں۔ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے وکرم۔ ایسی بے چارگی سے پوچھتی تھی کہ وکرم کی جگہ میں ہوتی تو الٹا اس سے پوچھتی تمہیں کیا ہوا ہے بہن اتنی دلگیری سے کیوں پوچھ رہی ہو۔ہیرو کیلئے۔اگر فرض شناس اچھا پولیس افسر بننا ہے تو دوتین بندوں کو اپنے کام سونپو خود بارش میں نہاتے پھرو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ جتنا اس نے پسینے چھوٹنے اور تھر تھر کانپنے والا فوٹیج کھایا اتنا کام کرتا نظر نہیں آیا۔ ہر کام دوست سے کروا کر ذہین افسر بنے رہے کہ دوست بھی چڑ گیا۔ ہر کام مجھے ہی کہہ رکھا ہے۔ ایک تو گھر میں بیوی نے مت ماری وی سب کام اسکے ذمے ڈال رکھے تھے اور باہر دوست کے نام پر بیگار لے رہا تھا ہیرو ۔جتنا کام اس بندے نے کیا سکون کیا ہوگا اس نے آخری دس منٹ میں چلو جان تو چھٹی۔ اوئے اہم اشارہ دے دیا دھت تیرے کیقاتل کیلئے۔اب اس میں مرد و عورت کا صیغہ استعمال کیا تو تم سب کا تجسس غارت ہو جائے گا بس قاتل سے ایک درخواست۔ کم ازکم قتل تو کرنا تھا ۔ یار۔۔۔۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنےذاتی رائے۔۔ ماشا اللہ سے کیا فلم ہے۔ جس جس کا قتل سے دور تک واسطہ نہیں اس اس نے جوتے گالیاں گولیاں سب کھائیں کچھ مر بھی گئے کچھ نے ناخن کھنچوائے کچھ نے بال نچوائے وہ بھی ہیرو کی سب پر شک کرنے کی عادت کی وجہ سے۔ مجھے تو لگتا ہے ہیرو کو اٹھا کر سیدھا افسر بنادیا تھا کوئی تربیت وربیت نہیں کی۔کوئی ایک اندازہ درست نہیں۔ جتنئ جانیں اسکی وجہ سے گئیں اگلے پارٹ میں یہ کسی کسی منظر میں ہکلانے کپکپانے کی بجائے ہر منظر میں کانپتا روتا رہے گااور کسی کسئ منظر میں بس نارمل رہا کرے گا۔ خیر دیکھ لو دو گھنٹے دس منٹ کی ہے تم سب بھی دیکھو میں تو سر پھٹنے کے باعث اب مزید کچھ دیکھنے لائق نہیں رہیDesi kimchi Ratings: ⅗

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: