Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

یہ ڈرامہ جب شروع ہوا اور لوگ دھڑا دھڑ اسے دیکھنے لگے تب میں نے نہیں دیکھنے کا ارادہ باندھا وجہ مجھے گھسی پٹی کہانی لگ رہی تھی اور واقعی تھی بھی۔ مگر جب پوری فیس بک یہ بچی نہیں بچہ ہے کا راگ الاپنے لگی اور میرے پاس دیکھنے والے ڈراموں کی قلت ہونے لگی تو یہ لگا لیا۔ پہلی قسط آگے کر کرے دیکھی پھر تھوڑی دلچسپی محسوس ہوئی حالانکہ کہانی میں جو جو ہونے والا ہے اسکا ادراک پچھلے منظر میں ہو جاتا ہے اور ایسا ڈرامہ دیکھنے میں مزا نہیں آتا مگر دیکھا اور آنسو بھی آئے آنکھوں میں۔ کیونکہ لکھا جس کسی نے ہے اسکا دو سے تین دفعہ دنیا میں آکر واپس جانے کا اتفاق ضرور ہوا ہے ایسی منظر کشی موت کے بعد اوپر سے مرنے کے بعد جو جو ستم جھیلنے کو ملتے ہیں اور جو آسانیاں نصیب ہوتی ہیں یعنی نہ کھانے پینے کی فکر نہ آمدورفت کا خرچ اوپر سے جہاں مرضی جا کر جس کسی کی ذاتی زندگی کا احوال جانو کوئی مسلئہ ہی نہیں۔ کہانی ہے ایک سڑک حادثے میں مر جانے والی حاملہ لڑکی کی جو مرنے کے بعد بھی اپنی ہی بیٹی کے گرد بد روح بن کر گھومتی ہے۔ اتفاق سے سوتیلی ماں اسکی بیٹی کو اچھی مل جاتی ہے مگر پھر بھی یہ فتنی خاتون واپس آکر دنیا کا نظام شوہر کی زندگی تہہ و بالا کرتی ہیں اور مر جاتی ہیں
اس کہانی سے کافی اسباق ملتے پہلا تو اگر مر جائو تو اوپر جائو زمین پر مت گھومتے پھرو
دوسرا اگر دوبارہ زندہ ہو جائو تو بھی مر جائو کیونکہ تم مرنے کیلئے پیدا ہوئے ہو۔
ہیروئن کی ماں کے لیئے سبق: بھئ مری ہوئی بیٹی کیلئے مر نے لگو تو بھی جان لو وہ اپنی بیٹی کیلئے مر رہی ہوگی ۔ ان آنٹی نے آسمانوں میں وہ ہلہ مچایا کہ بھی میری بیٹی واپس بھیجو کہ تنگ آکر بھیج ہی دی گئ بیٹی لو بھگتو اب۔ مگر بیٹی صاحبہ ماں سے ہی چھپتی پھریں ۔ اتفاقا اماں ملیں تو اماں بیٹی کا بھوت دیکھ کر بے ہوش ہو گئیں۔یعنی مرے ہوئے جتنے بھی عزیز کیوں نہ ہوں انکو زندہ دیکھنا بڑے ہی دل گردے کا کام ہے۔۔
ہیروئن کے ابا کیلئے۔ بھئ آپ نہ بھی ہوتے تو ڈرامہ چل جاتا مگر انکو بھی لکھنے والے نے ڈالے رکھا ڈرامے میں جزباتی عنصر ڈالنے کیلئے۔
ہیروئن کی بہن : ما شا اللہ سے کوئی حیثیت نہیں تمہاری اپنے ہی گھر میں۔ اماں زندہ بیٹی کی شادی سے ذیادہ مری ہوئی بیٹی کے شوہر کی دوسری شادی میں دلچسپی لیتی ہیں ۔ یہ بے چاری پہلے جب تک بہن زندہ تب تک گھر میں والدین کی عدم توجہی کا شکار رہی پھر جب وہ مر گئ تو پھر والدین بہن کو روتے رہے پھر جب بہن زندہ ہو کر واپس آگئ تو بھی اور جب دوبارہ۔ اف۔۔۔ جتنی شد و مد سے آسمانوں سے آنٹی نے مری ہوئی بیٹی کی واپسی کی دعا کی اسکی بجائے زندہ بیٹی کے گھر بس جانے کی دعا کرتی تو گھر نواسے نواسیوں سے بھر جاتا

بد قسمت بد روحیں: ایک سے ایک دردناک خوفناک انجام والی بدروحیں بھٹکتی پھریں کہ دل کیا اپنی زندگی انکے نام کر ڈالوں مگر شکر ہے دونوں کام ممکن نہیں۔ ایک تو بے چاری گو فیملی ماں باپ بیٹی سب بیٹے کے سامنے مر بیٹھے اوپر سے
اوپر جانے کی بجائے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں اپنے ہی بیٹے کے۔
ہیروئن صاحبہ تنگ آئی رہیں اس خاندان سے اور اس خاندان نے باتھ روم میں پھنسے بیٹے کو ہیروئن کے زریعے ٹوائلٹ پیپر تک بھجوایا مگر احسان کا بدلہ بھی چکا گئے۔
جیسے بچپن میں اخبار میں تین عورتیں تین کہانیاں ہوا کرتی تھیں اس ڈرامے میں لا تعداد بد روحیں لا تعداد کہانیاں ہیں۔
بس دیکھو اور عبرت پکڑو
ہیروئن کی سہیلی کیلئے۔ بھئ تمہاری اپنی کوئی زندگی نہیں ۔اپنی مری ہوئی سابقہ اور زندہ موجودہ سہیلیوں کے خانگی مسلئے جیسے دونوں کا مشترکہ شوہر اور بچی کے مسائل حل کرو ۔اپنے شوہر کو بھلے بھوت ڈرائے پاگل بنائے نہیں جی تم بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بنی پھرو۔ جتنا سسہیلی کی بیٹی کا خیال رکھا اتنا اپنی اولاد کا رکھتیں تو یقینا بڑھاپا سنور جاتا
ہیرو کیلئے۔ بھئ پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں۔
یہ مثل موصوف پر صادق آتی ہے
مطلب محبت کی شادی اولاد اچھی محفوظ نوکری کیا کچھ نہ ملا اوپر سے بیوی مری تو دوسری بیوی پہلی سے ذیادہ خوبصورت جوان اور محبت کرنے والی ملی جسے اپنے شوہر سے یہی شکایت رہی کہ گیلا تولیہ بیڈ پر کیوں نہیں پھینکتا، نہانے کے بعد باتھروم صاف کرکے کیوں نکلتا ہے، بیٹی کا خیال رکھنے پر شکریہ کیوں کہتا ، بیٹی کا خیال خود بھی برابر سے کیوں رکھتا، بیوی سے اتنی عزت سے کیوں پیش آتا۔ ملتی ہے جہاں میں ایسی کوئی بیوی؟ پائوں دھو دھو بھی پیئے تو کم ہے
سائیڈ ہیروئن کیلئے۔ مطلب کوئی اسکرو ڈھیلا تھا کیا تمہارا میڈم؟ایسی پیاری صورت ایک سے ایک لڑکا ملتا۔ اس خبطی ناشکرے مرد میں ایسا کیا دکھائی دیا جو مر مٹیں شادی شدہ بچی کے باپ پر الٹا بچی پر پیار لٹایا اور میاں اگر شرافت سے پیش آرہا تو اس سے خفا رہیں تم جیسی خواتین ہوتی ہیں
جو مردوں کا دماغ خراب کر ڈالتی ہیں اوپر سے بی بی مری ہوئی عورت سامنے آکھڑی ہوئی ہے ڈرنا لڑنا دور الٹا رونا پیٹنا مچا کر خود اسکی زندگی سے جانے کا سوچنے لگیں جسکی زندگی ہی نہیں رہی۔ کمال ہے ایسی دماغ میں بھسس بھری لڑکی نہ کبھی دیکھی نہ سنی
بچی کیلئے۔ بھئ تم بچہ ہو۔ ابھی یہ جو سارے مر مٹ رہے نا تمہاری ادائوں پر سب نے بڑا مزاق اڑانا تمہارا اگر بڑے ہو کر بھی یہی حال رہا ہجڑا کہہ کر چھیڑیں گے سب تمہیں۔سدھر جائو آئیندہ بچے کا ہی کردار کرنا
ہیروئن کیلئے۔ ایک دنیا مرتی ہے سب اگر اپنے بچوں دوستوں رشتے داروں کے چکر کاٹتے رہیں تو انکو بھی ساتھ لے مریں ۔عجیب ہو تم دیکھ رہی ہو بچی کی سوتیلی ماں خیال رکھ رہی تو تم بھی جائو اوپر نہیں سر پر سوار رہیں بچی کے الٹا اسے بھوت دکھائی دینے لگ گئے۔اوپر سے جب آہی گئی تھیں واپس تو بچی کی خاطر دوبارہ مرنے کا فیصلہ چہ معنی دارد؟ او بھئ کیا ہوا جو وہ بھوت دیکھ سکتی۔ تم بھی دیکھتیں اسے بھی دیکھنے دیتیں۔ بلکہ عامل باوا کا کام شروع کر دیتیں بیٹی بدروحوں سے مسائل پوچھتی تم بدروحوں کے زندہ بچوں کو بیت الخلا می ٹوائلٹ پیپر دینے کا کام کر لیتیں۔جوابا معاوضہ ملتا کمائی کا اچھا خاصا ذریعہ بن جاتا
ذاتی رائے۔
بھئی اخیر جزباتی خرافاتی ڈرامہ ہے ۔چھونے کو بے تاب بدروحیں اور چھونے سے بےزار انسانوں کی کہانی ۔سب کے اپنے اپنے مسائل۔ اگر جزباتی انسان ہیں تو ایک ایک منظر دل سے قریب حقیقت پر مبنی اور دل دکھانے تڑپانے والا اور اگر منطق سے دیکھو تو خرافاتی۔ مطلب اتنے فائدے جینے والوں کو نصیب نہیں جتنی مفت کی آمد و رفت ان بدروحوں کی تھی۔بھئ دنیا گھومنے کا شوق تو مر جائو بنا ویزے پاسپورٹ اور خرچے کے جہاں مرضی گھومو پھرو۔
ہاں جب سے کرونا کی وبا آئی اور سماجی فاصلے اور چھوت چھات منع قرار پائی کچھ کچھ ان بدروحوں کی بے چینی سمجھ آنے لگی۔ خیر لیکن آپ ابھی زندہ ہیں کرونا سے بچنا ہے تو ہاتھ دھونا ہے فاصلہ رکھنا ہے سمجھے۔
by Desi Kimchi #kdramas #koreancelebrities #Desikimchi #Pakistanikdramafans#kactor #leejongsuk #tvn #kdramaedit #oppa #koreanactress #kbs #kpopers #drakorindo #sbs #vagabond #doramascoreanos #asiandrama #kdramafans #koreandramalovers #rowoon #koreanlovers #l #kpoperslovers #klovers #like #cdrama #newdrama #kimsohyun #jongsuk #koreadrama #actress #leejaewook #mbc #suzy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: