Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

miracle brothers


یہ بھی دیکھا تین اقساط دیکھ لیں ڈرامے کی سمجھ نہ آئی اتنا بھی کوئی اعلی تجسس سے بھرپور ڈرامہ نہیں مگر کچھ غیر ضروری سسپنس ہے چلو تبصرے میں مزید تفصیل بتاتی ہوں
کہانی ہے ایک عدد ناکام و نامراد مصنف کی جس کا بھائی دوست کوئی لاپتہ ہے وہ اسکے لیئے پریشان گاڑی ڈرائیو کرتا اسے فون ملا رہا ہے تیز بارش ہو رہی ہے دوسری جانب ایک نو عمر لڑکا کچھ لوگوں سے بھاگتا بچتا پھر رہا ہے تنگ گلیوں میں بجلی کڑکی لڑکا اڑا آکر ٹکرایا مصنف کی گاڑی سے اور بیہوش۔ اب مصنف اسے اسپتال پہنچاتا ہے اور وہ مرگیا سچی مر گیا۔ اب ہیرو دکھی پولیس جھیل رہا ہے افسوس کر رہا ہے کہ آواز آتی ہے ہیونگ۔ اس کو آواز کا منبع سمجھ نہیں آتا مگر آواز کے پیچھے پہنچتا یے اسی لڑکے کے پاس جو اسے قریب پاکر آنکھیں کھول دیتا ہے۔ یہ چیخ مارکر پیچھے ہوتا ہے اور وہ دوبارہ بیہوش ۔ یہ بیہوشی دو مہینے طاری رہی پیچھے اس مصنف نے اسکا بستہ کھنگالا تو پرانے زمانے کی فلاپی ڈرائیو اور کچھ آلتو فالتو چیزیں اور ملتا ہے ایک مسودہ۔نہایت زبردست تجسس سے بھرپور قتل و غارت کی کہانی۔ اب مصنف پہلے تو اسکو امانتا رکھتا یے مگر حالات سے مجبور چھپوانی پڑجاتی ہے یہ کہانی ۔ جونہی

کہانی چھپی اسکے حالات بدل گئے امیر ہوگیا اور لڑکا بھی جاگ گیا۔مگر لڑکے کو کچھ بھئ یاد نہیں ہاں اب

اس میں تین چار سپر پاورز آگئی ہیں لوگوں کے دکھ پڑھ لیتا ہے انکو گھور کر گلا دبا سکتا ہے ساتھ ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی فرما سکتا غائب ہو کر ہاں سوچوں میں ہیونگ یعنی مصنف کو بھی آواز دے سکتا ہے۔ دوسری جانب کچھ قتل و غارت ہو رہے ہیں ایک اداس شکل والی ہیروئن انکا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے ہیرو کے گھر میں چوری ہوتی ہے لڑکے کا بستہ غائب ہے اور اسی مسودے پر کوئی لکھ گیا کہ یہ انجام مجھے پسند نہیں آیا۔ اب ہیرو اس مسلئے سے نکلا نہیں کہ اسے اب اس نام نہاد لڑکے کو چھوٹا بھائی سمجھ کر پالنا پڑ رہا ہے وہ ساتھ ساتھ غائب ہو کر دوسروں کے دکھوں کا مداوا کر رہا ہے اداس آنکھوں والی ہیروئن آکر مصنف سے پوچھتی ہے بھئ یہ کہانی تو سچ ہے ایسے ہی قتل و غارت ہو رہے ہیں تم بتائو یہ تمہیں کیسے پتہ اور چھوٹے لڑکے کو ایک آنٹی ملتی ہیں جو اسے دیکھ کر کہتی ہیں تمہاری شکل کسی اپنے سے بہت ملتی ہے ہیرو کو لگتا ہے وہ اسے جانتی ہیں مگر وہ آنٹی کہتی ہیں میں تمہیں جو سمجھی تھی وہ اب تو میری عمر کا ہوگا معزرت۔
اب عقل کو یہی بات لگتی ہے کہ چھوٹے بھیا ماضی سے چھلانگ مار کر حال میں پہنچے ہیں مگر ماضی کی بہ نسبت اب جتنی ٹیکنالوجی بدل چکی انکو تھوڑا ذیادہ حیران ہونا چاہیئے تھا اتنے نظر نہیں آرہے۔ دنیا جہان کے دکھ پڑ ھ سکتے سوائے ان مصنف بھیا کے۔ اور ساتھ ٹیلی پورٹیشن او ر دو چار اور مشکل مشکل ناموں والی نفسیاتی باتیں سمجھنے کی صلاحیت کیسے پائی۔ اس بس کو جاننے کیلئے دیکھنا پڑے گا۔


کیونکہ چھوٹے بھیا ہیں تو پیارے آہم۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: