Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

مسنگ دا ادر سائیڈ۔
بڑے محاورے ہیں اردو میں مرنے کے حوالے سے جیسے مرے پر سو درے ، جو مرگیا وہ دب گیا، آبیل مجھے مار، مر مٹنا ، حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ، قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے وغیرہ۔مگر مسنگ دا ادر سائیڈ ڈرامہ دیکھ کر احساس ہوا کہ اس پر تو ان میں سے کوئی محاورہ نہیں جچتا۔ مسنگ دا ادر سائیڈ ڈرامہ ہےبڑ امختلف۔
بالکل ہوٹل ڈیل لونا کی کہانی سے سب گلیمر نکال کر بڈھا ہیرو رکھ لو تو مسنگ دا ادر سائیڈ بن جاتا۔ کہانی شروع ہوتی ہے ایک عدد انکل سے جو پہاڑ سے گرتے ہیں اور ایک نئے گائوں پہنچ جاتے پہلی دو قسطوں میں کہانی وہ دائو پیچ کھاتی کہ میرا پہلی دو قسطوں کا تجزیہ پڑھ لو یہاں
missing-other-side-south-korean-2020

بس دیکھ لیا ڈرامہ آگے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس ایک ادھیڑ عمر ہیرو ایک جواب ہیرو مرجانے والوں کی لاشیں تلاشتے رہیں گے اور انکے دل کے قریب اپنے مر چکے ہونگے ۔
کہانی سے اسباق۔
مرنے والوں کیلئے۔
او بھائی مرنے سے انسان نہیں مرتا۔ لاش نہیں ملتی تو بندہ مرتا بھی نہیں ہے۔ یہیں کہیں دنیا میں لگ دنیا بسا کے بیٹھا ہوگا کسی پیارے سے لڑکے کی سربراہی میں۔ یہ ڈرامہ دیکھ کر انسان کا دل کرتا مر جائے۔ مرے بھی ایسے کہ قتل ہو۔ قتل بھی ایسےہو کہ لاش نہ ملے۔ دنیا کے سب عیش و آرام کھانا پینا مفت رہائش سب کچھ ملے گا اس چھوٹے گائوں میں چاہو تو وہاں افیئر چلا کر شادی بھی کرلو ہیرو کی اماں نے بھی شادی نہ کی مرنے کے بعد افئیر چلایا بچے بھی ادھر ادھر سے قتل ہوئے وے پکڑ کر مامتا کی تسکین کی۔ اب اپنے ایمان سے بتائیں نا روزگار کا جھنجھٹ نا پیسے کمانے کی فکر بس اٹھو کھائو پیئو موج کرو دعا کرو کہ تمہاری لاش نہ ملے باقی وہی زندگی۔ تو یہ زندگی مرنے کے بعد ہے تو مرنا بہتر نہیں؟
معاون کرداروں کیلئے۔
اب دو درجن لوگ بچے مرتے رہے ہیں سب کو اکٹھے ہی۔نمٹا دوں سوچا۔ہاں تو بھئی انتہائی دکھ بھری زندگی میں کسی بے رحم شقی القلب انسان کےہاتھوں مرنے اور دفن نہ ہونے کے جتنے صلے ملے ہیں انکو دنیا میں الگ دنیا بسا کر کہ مجھے تو لگتا ہے کسی سیریل کلر نے لکھا ہے اس کا اسکرپٹ۔ ظاہر ہے اسے مارنے مورنے کا دل کرے اور کسی کا مرنے ورنے کا دل نہ کرے تو ایسی ہی کہانی تصوراتی دنیا کی لکھ کر ہی راغب کیا جا سکتا نا کہ بھئی اگر کوئی مافیا گروہ اغوا کرنے لگے تو مزاحمت نہ کروبلکہ خوشی خوشی بوری میں بند ہو جائو سمندر کی تہہ میں جاگرو ، سوتیلا باپ مار کر ماردے تو خوشی خوشی پانی کی ٹینکی میں لاش سڑوالو اپنی، وغیرہ وغیرہ ۔ خیر ان سب نے کہانی کو بہت سہارا دیا۔ اب خود سوچو ایسا ڈرامہ جس میں ہیرو کا ہر وہ بندہ جو مخلص ہو اس سے پیار کرے مرے نہ کوئی اسکی ہیروئنی ہو نا رومانس کا کوئی چانس اوپر سے ہیرو بھی بڑھاپےکی طرف مائل ہو اس ڈرامے کی آپ 12 اقساط کیوں کر دیکھیں گے۔ ؟ وے وے ویئو؟
اس ڈرامے کا مانوال۔
ہوٹل ڈیل لونا میں جیسے آئی یو پانچ ستارہ عالیشان ہوٹل کی مالک تھیاس ڈرامے میں کم بجٹ ڈرامہ ہونے کے باعث چھوٹے موٹے دھابے کا مالک لڑکاتھا۔ واحد گلیمر اسے اسکے عیسائی نام نے دیا وہ میں بھول گئ کیونکہ یہ ڈرامہ پچھلے سال دیکھا اور پچھلا سال پڑھائی کے لحاظ سے جتنا مشکل سال تھا کرونا کی وجہ سے مجھے یہ ڈرامہ اتنا یاد رہ گیا اسی سے اندازہ کرلو کتنی ذہین ہوں میں اور کتنا کچھ بھول بھی گئی اس سے اندازہ کر لو پریشان کتنا رہی میں۔۔
ہاں تو یہ مردانہ مانوال لکڑی کا کام جانتا ہے اور اپنے اس دیو مالائی گائوں میں آنے والی ناپسندیدہ روحوں کو جیل میں ڈال رکھتا ہے۔ اب بے چارے جنہوں نے قتل و غارت کیئے زیادتیاں کیں انکو دنیا میں جینے سے محروم کیا ہی گیا یہاں کے عیش و آرام بھی غارت اب جب تک انکی لاش نہ ملے وہ یہاں کی لڑکیوں کو چھیڑ بھی نہیں سکتے اس مانوال کی وجہ سے ذیادتی ہے کہ نہیں؟
سائیڈ ہیرو
بھئی منگیتر سے محبت میں اگر اسکی اوقات ہوتی تو تاج محل بنواتا اتنی محبت تھی اسے۔ اور منگیتر مر بھی گئ تھی مگر چونکہ غریب پولیس افسر تھا لہذا موٹے موٹے آنسوئوں سے روتا رہا دس بارہ اقساط بس۔ قسم سے ترس آیا۔ ایک تو منگیتر مر گئ اوپر سے بار بار کسی نہ کسی طرح ہیرو کو عاجز کرکے خود تو خوب آنکھیں گڑو گڑو کر ہیرو کو دیکھتی رہی ہیرو بے چارہ ہوا کو گھورتا رہا بس۔ روحوں میں کوئی تھانے وانے کا نظام ہوتا تو اس لڑکی کو پکا جیل ہونی تھی ایک شریف معصوم لڑکے کو ہراسان کرنے کے جرم میں۔

سائیڈ ہیرو کی ہیروئن کیلئے۔
اب اسکو ہیروئن کہنا مناسب بھی ہے کہ نہیں غیر معروف لڑکی جو پہلی قسط میں ہی اغوا ہو کر مر گئ مگر اگلی دس اقساط اپنے نہ ہوسکنے والے شوہر کو اپنی تلاش میں بھٹکایا اپنے اس عالم بالاء میں بہانے بہانے سے بلوا کر خوار کیا اور آخر میں سمندر سے لاش بھی اپنی نکلوا کر وہاں سے اوپر چلی گئ۔ ویسے ایک بات سمجھ نہ آئی اتنا بڑا سمندر لاش نہ گمی نہ مچھلیوں نے کھائی حیرت کی بات ہے نا؟ بھئی آئیندہ مرنا تو خاموشی سے دفن ہو جانا جینے والوں کو تل تل مارنا انسانیت تھوڑی

ہیرو کی منہ بولی بہن کیلئے۔
بھئی اس ڈرامے میں ہیرو کو ہر طرح سے تکلیف دی گئ یہاں تک کے اچھی خاصی پیاری بہن بھی دے دی۔ وہ بھی منہ بولی۔مگر ان موصوفہ کا کام ہی نہیں تھا کوئی ڈرامے میں۔ مجھے نہیں پتہ کورین عینک والا جن دیکھتے تھے کہ کیا یہ زکوٹا جن کی نقل اتارتی رہی مجھے کام بتائو میں کیا کروں میں کس کو کھائوں کے مصدق ڈھونڈ ڈھونڈ کے خطروں میں کودی اور اتنی اضافی کردار تھی کہ ہر خطرے میں سب سے پہلے اسکو نکال باہر کیا مصنف نے۔
سائیڈ ہیرو انکل۔
بھئ انکی بیٹی گم گئ۔ جس عمر میں گمی اسکا زندہ ملنا معجزہ ہوتا مل جاتی تو پہچاننا ناممکن تھا اوپر سے مصنف کا معجزوں پر بس اتنا ہی اعتبار تھا کہ لاشوں کی گمشدگی کے سوا معجزے رونما نہیں ہوسکتے۔ انکو روحیں دکھائی دینا شروع ہوئیں روحوں کے بے دام غلام بنے اور بیٹی کا پتہ ملتے ہی یہ صلاحیت رفوچکر ۔ مگر پورا ڈرامہ جتنا ہیرو اور اسکی بہن کو اپنی بیٹی ڈھونڈنے میں لگائے رکھا۔ اتنا کہ میرا بس نہیں چلا کہ ایک قسط میں لکھ دیتی جس میں ہیرو کی منہ بولی بہن انکی گمشدہ بیٹی نکل آتی۔
ہیرو کیلئے۔۔۔
آ بیل مجھے مار کا محاورہ اسی کیلئے نکلاہے۔ سر راہ آپکو کوئی بچہ ملے اسے آپ بچا کر لےجارہے ہوں اور وہ غائب ہوجائے تو اسکا کیا مطلب یا تو وہ بچہ جن کا بچہ ہے یا روح ہے۔دونوں صورتوں میں ایک عام انسان چیخیں مارتا ہے لاحول پڑھتا ہے یا خود بھی ڈر کے مر جاتا ہے مگر نہیں یہ چونکہ ہیرو تھے تو اس گائوں کے طواف کرنے لگے پولیس کو لے پہنچے بچے کی لاش تک پانی کی ٹینکی سے نکلوا لی وغیرہ ۔ایسے کام بس ڈراموں میں ہو سکتے۔ حقیقت میں انسان کو زندگی کے رونوں سے فرصت کہاں کہ مرے ہوئوں کے مسلئے حل کرے مگر چونکہ جیسا کہ بتایا ہیرو کی نہ ہیروئن نا اچھی جاب نا کوئی کام دھندہ یہی کرنا تھا نا اس نے۔ خیر اسکی والدہ اسے ملیں مری ہوئی یہ فائدہ ہوا اس گائوں کے چکر لگانے کا مگر نا معلوم بلکہ فضول وجوہات کی بنا پر دونوں کا ٹاکرہ ہی نہیں کروایا جزباتی انداز میں وجہ یہ کہ والدہ ہیرو کے بچپن یعنی اپنی ادھیڑ عمری میں عالم بالا پہنچیں اب ہیرو انکے برابر کا ہی ہو چکا تھا۔
ولن کیلئے۔۔
دنیا میں کیا کیا وجوہات نہیں ہوتیں مارنے کی جان سے جیسے کسی نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ لیا، ڈرائیو کرتے ہوئے غلط کٹ مار کر گاڑی ٹھونک دی آپکا دل کرتا اسے ٹھونک دو ، پڑوس میں شادی ہو اور وہ رات کے دو بجے گلے پھاڑ کر رہے ہوں ڈھولک کے ساتھ اور آپکو صبح سات بجے اٹھ کر کام پر جانا ہو دل یہی کرتا نہ کہ ایک آدھ گرنیڈ انکے گھرپر پن نکال کر اچھال دیا جائے یا کوئی یونہی کندھا مار کر گزر جائے مگر مصنف کو ایسی کوئی قابل قتل وجہ سمجھ نہ آئی اور ایسی فالتو وجہ پر قتل عام کروایا کہ بتا دیا تو ڈرامہ خاک پتھر دیکھوگے تم لوگ سر پیٹ بیٹھوگے وہ بھی مصنف کا۔۔۔۔
ذاتی رائے۔۔
بھئ دیکھ لو میں کون ہوتی کسی ڈرامے کو دیکھنے سے منع کرنے والی۔ دس قسطیں دیکھ لو باقی اگلی دو نہ بھی دیکھو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا بس انتھونی کی لاش نکل آئی اور ایک اور ایسا احمقانہ گائوں بھی جہاں لوگ مرے ہوئے بھی جی رہے ہیں۔ اب اگر جینا ہی ہے منحوسو تو مر کیوں رہے ہو اوپر سے لاشیں ڈھونڈنے کا کام ایسے پولیس سے کروارہے ہو جیسے وہ گورکن ہوں ۔بھئ دیکھو سب یہ ڈرامہ تم سب بھی اپنی زندگی کے بارہ گھنٹے اس ڈرامے پر لگائو ایک میں ہی کیوں اپنی قیمتی زندگی کے بارہ گھنٹے ضائع کر بیٹھی ہوں؟؟؟؟؟ وے وے وے

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے
Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔


New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.
Bookmark : urduz.com
kuch acha perho
Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: