Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

My perfect stranger
یہ ڈرامہ دیکھا پہلی دو اقساط میں بس ملا جلا سا رجحان تھا سو تیسری قسط کا انتظار کیا ۔خلاف توقع اس قسط نے غیر معمولی موڑ لیا ہے۔ سو اب دیکھوں گی کہانی بتاتی ہوں۔
کہانی شروع ہوتی ہے کوریا کے شاہزیب خانزادہ سے۔ مطلب کوریا کا ایک عدد لڑکا خواب دیکھتا یے شاہزیب خانزادہ کی طرح مشہور اینکر بننے کا ۔ ایکدن جا رہا ہوتا ہے اپنی گاڑی میں اور اسے ملتی ہے ایک اور گاڑی۔ جا کر قریب سے دیکھتا ہے تو گاڑی میں ٹائم مشین لگی ہوئی ہے۔یعنی اس گاڑی کی خوبی ہے وقت کے آگے پیچھے سفر کرنا۔اب جیسا کہ لڑکوں کو شوق ہوتا ہے پنگے لینے کا اپنی نئے ماڈل کی گاڑی چھوڑ چھاڑ اس کھٹارا 1980 کے ماڈل کی گاڑی میں سفر پر نکلتے ہیں۔عقلمند ہیں پیچھے جانے کی بجائے آگے جاتے ہیں اور انکشاف ہوتا ہے مستقبل میں تو وہ وجود ہی نہیں رکھتے۔ اب سوال پیدا ہوا کیوں؟ کیونکہ انکا قتل کردیا ہے ایک نامی گرامی قاتل نے جو 1987 سے قتل و غارت کر رہا تھا اور 2022 میں جیل کاٹنے کے بعد عین جس دن اسکی رہائی ہونی تھی اس سے ایک دن قبل خودکشی بھی کرلی۔اب جب مارنے والا مر چکا تو کس نے مارا اسے؟ ظاہر ہے بے گناہ قید تھا اصل قاتل باہر گھوم رہا ہے۔یہ اس قیدی کے مرنے سے قبل جا کر اسے ملتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ وقت کے پیچھے جا کر اسے بچا لے گا بس ابھی خودکشی نہ کرے۔ اگلا مان لیتا ہے۔
اب جاتا ہے 1987 میں جب یہ خود پیدا بھی نہیں ہوا تھا مگر قتل کے جرم میں جو قید تھا وہ اسی سال پکڑا گیا تھا۔وہاں جا کر یہ ناصرف کچھ لڑکیوں کو قتل ہونے سے بچاتا ہے بلکہ استاد بن کر ہائی اسکول میں پڑھانے بھی لگتا ہے۔اب ہیروئن کا حال سنو۔غریب ہیں ایم مشہور کہانی کار کی بھوتنی لکھاری ہیں گھوسٹ رائٹر کا یہی ترجمہ بنتا یے۔مطلب وہ آنٹی ناولسٹ ہیں اسکا کام انکے کام کی نوک پلک سنوار کر پڑھنے لائق بنانا ہے۔ اماں انکی سادی ہیں جن سے انکو شرم بھی آتی ہے۔ دکھی ماں جا کر مر جاتی ہیں مر بھی کیا جاتی ہیں قتل ہوتی ہیں مرنے سے پہلے اپنے نالائق میاں کو کالیں بھی کرتی ہیں وہ نہیں اٹھاتے شراب میں دھت پڑے ہوتے ہیں۔اماں گئیں دنیا سے ہیروئن نے رو کر گنگنم دریا کے پانی میں اضافہ کیا ابا آئے انکو برا بھلا کہا جا کر سنسان سڑک پر کھڑی ہوگئیں سامنے سے گاڑی آتی دکھائی دی بجائے سائیڈ میں ہونے کے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں ہیرو انکو بچاتے ہوئے گاڑی سمیت درخت میں جا گھسا۔ دونوں سر پھٹواچکے ہیں ہیروئن ہیرو پر لعنت بھیج کر زخمی حالت میں گائوں میں پھرتی پھریں کیا دیکھتی ہیں اسکی اماں جوان سال 18 سال کی عمر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جا رہی ہیں۔ ہیرو ڈھونڈتا اسے پہنچتا ہے ہیروئن کو بتاتا یے 1987 میں پہنچ گئ ہے وہ اور وہ گاڑی ٹھیک کرکے اسکو واپس پہنچا دے گا۔ ادھر ہیروئن اماں کو دیکھ کر خوش ہے لیکن اماں بے چاری اپنی سہیلیوں کے ہاتھوں شدید ہراسانی کا شکار ہیں۔ یہ انکو بچانے ہائی اسکول میں داخلی لیتئ ہے دوستی کرتئ ہے۔اس پر انکشاف ہوتا ہے جن آنٹئ کی وہ بھوتنی لکھاری ہے وہ آنٹی دراصل اسکی اماں کی ہم جماعت ہیں بلکہ اس سے لکھواتی بھی ہیں۔ او رتو اور وہ ناول جس نے شہرت بخشی اس چڑیل کو وہ اسکی اپنی اماں کا مرکزی خیال تھا۔ اب یہ ٹھان لیتئ ہے اپنی اماں کو انصاف دلوائے گی۔ اب آتا ہے کہانی میں دلچسپ موڑ موصوفہ ملتی ہیں اپنے ابا سے اور دو عدد مزید لڑکوں سے ایک ہی دن میں مگر یہ تینوں لڑکے اسی مرحلہ وار قتل کے مرکزی ملزم ہیں۔ ہیرو ہیروئن کی 1987 میں موجودگی پر حیران پریشان ہے ہیروئن اپنے اماں ابا کی ہر صورت شادی رکوانا چاہتی ہے یہ سوچے بنا کہ اگر انکی شادی نہ ہو پائی تو وہ پیدا کیسے ہو پائے گی؟
سو ابھی اگلی کچھ اقساط دیکھنے کا ارادہ ہے۔ پہلی دو اقساط گزار لو بس تو ڈرامے میں دلچسپی ہوجائے گی۔
Desi kimchi ratings: 3.5/5
ہیرو ہیروئن پیارے ہیں۔
ویسے ایسی مشین ہے تو مجھے بھی چاہیئے اپنی اماں کی کچھ سہیلیوں سے انکی جان چھڑانی ہے۔ مطلب ایسی بری سہیلیاں انکی اوپر آج تک چلی آرہی ہیں ویسے میں گئ تو خود سیریل کلر بن جائوں گی پکا۔ ان خواتین کا بوجھ دھرتی سے کم کرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: