Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

ایک اور ایساکے ڈرامہ جو سماجی مسائل کا صحیح عکاس ہے۔ اگر آپ نے دیکھنا ہے اصل زندگی کو تو یہ ڈرامہ دیکھیں۔
ایک ستر سالہ بوڑھا اور ایک چوبیس سالہ جوان کیسے اپنی اپنی جگہ زندگی سے لڑ رہے ہیں۔
کہانی یے ایک ستر سالہ بوڑھے کی جو اپنے دوست کی آخری رسومات میں شرکت کرتا ہے۔ زندگی کا آخری دور ہے بچے جوان پوتے پوتیوں کو کھلانے کی عمر سے بھی آگے اب جبکہ سب بچے اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہیں یہ بوڑھا اپنی بوڑھی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ بیوی کی ساری مصروفیات دلچسپیاں اب بچوں کی زندگی کے معاملات سے جڑی ہیں۔ مگر یہ تو ایک ماں کا حال ہے۔ باپ کا اپنے بچوں کے معاملات سے بس اب رسمی سا ہی تعلق یے۔ وہ اب اپنے لیئے جینا چاہتا ہے زندگی بھر اسے بیلے ناچ سیکھنے کا شوق رہا پہلے باپ نے اس شوق کو فضول جانا۔ خواہش دبا کر کمانے کی دوڑ میں شامل ہو کر زندگی کے آخری حصے میں اسے دکھائی دیا ایک چاق وچوبند نہایت اپنے فن میں ماہر فنکار بیلے ناچ کرتا چھے روک ( سونگ کانگ) دل میں دبی خواہش انگڑائی لیکر بیدار ہوئی۔ بالک ہٹ دکھاتے ہوئے بیلے ناچ سیکھنے پہنچ گئے اسی اسٹوڈیو جہاں چھے روک ناچتا ہے۔ چھے روک اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اسکے خیال میں۔ جہاں وہ ناکام ہے اسکے پاس ماں باپ نہیں کہیں معمولی نوکری کرکے گزارا کرتا ہے پیسے کی کمی محبت کی کمی وہ اپنی جان لڑا رہا ہے مگر بھرپور کوشش کے باوجود وہ اپنے استاد کو متاثر کرنے میں ناکام ہے۔
ایک بوڑھا جو اپنی زندگی میں سب کچھ حاصل کرچکا سوائے ایک شوق پورا ہونے کے جو اسکے دل کی حسرت بن چکا یےکیونکہ اسکا بوڑھا جسم اسکا ساتھ نبھانے کو تیار نہیں وہیں ایک نوجوان لڑکا جسکے پاس صحت یے جوانی ہے زندگی کا بہترین وقت ہے مگر اسکا ذہن منتشر ہے اور وہ اس جوانی کا جس کو بوڑھا حسرت سے دیکھتا یے صحیح

استعمال نہیں کرپارہا۔
کہانی میں بہت زیادہ تیزی سے اتار چڑھائو نہیں آتے کوئی بہت مزاحیہ پلاٹ نہیں مرکزی خیال اچھا ہے ڈرامائی تشکیل اچھی ہے سب سے بڑھ کر اداکاری سب کی بہترین ہے۔ اس میں سبق ہےزندگی کی نئی شروعات کیلئےاگر زندگی یے تو

ابھی بھی اتنی دیر نہیں ہوئی۔۔۔۔

“>> » Home » Korean drama first episode review in urdu » Navillera kdrama a story of an old man first episode urdu review

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: