Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

بد قسمتی سے گزشتہ عشرے میں پاکستان ٹیلی وژن کا نام خال خال ہی سنائی دیتا ہے۔ اس چینل کو عوام کی بڑی تعداد بھلاتی جا رہی ہے وجہ انتہائی سخت مقابلہ ہے پرائیوٹ چینلز اور پی ٹی وی کے درمیان اور اس مقابلے کو خوبی سے پی ٹی وی اسپورٹس جیت رہا تھا جب پورا پاکستان پی ٹی وی اسپورٹس لگا کر  ٹی ٹوئینٹئ ورلڈ کپ 2021 کے میچز دیکھ رہا تھا بلند ترین ٹی آر پی کا جشن مناتے ہوئے پی ٹی وی کو یاد رکھنا چاہیئے تھا کہ اسکی وجہ گیم آن ہے نامی پروگرام جو ہر میچ کے بعد چلتا ہے اس میں کرکٹ  ماہرین کی جو ٹیم ہے اسکے تبصروں اور تجزیوں میں پاکستانیوں کی دلچسپی۔ جہاں اس ٹیم میں بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں وہاں اس بات کو بھی جھٹلانا ممکن نہیں ہے کہ اس پروگرام کے میزبان نعمان نیاز کہیں بھی کسی کی بھی بات کاٹ کر اپنی کہے چلے جاتے ہیں۔ پی ٹی وی جیسا ادارہ جہاں ٹی وی اسکرین پر آنے سے قبل ایک مکمل ٹریننگ سے گزارا جاتا ہے میزبانوں کو وہاں ایک اچھے خاصے سینیئر میزبان جنکی قابلیت انکا دانتوں کا  ڈاکٹر ہونا ہے درجنوں پروگراموں کی میزبانی کے بعد ایسا رویہ اپنانا حیرت کا باعث ہے۔

گزشتہ پروگرام میں شعیب اختر اور نعمان نیاز کی براہ راست پروگرام کے دوران نوک جھوک ہوئی جس پر نہایت بد تمیزی سے نعمان نیاز نے شعیب اختر کو پروگرام سے چلے جانے کو کہہ دیا۔ 

بات کچھ یوں ہے کہ شعیب اختر نے لاہور قلندرز کی تعریف کی اور پلیئرز ڈویولپمنٹ پروگرام کی توصیف کرتے ہوئے کہا کہ حارث رئوف جیسا با صلاحیت کھلاڑی کا ملنا اسکا نتیجہ ہے۔اس بات کو کہنے کے دوران صاف نظر آتا ہے کہ نعمان نیاز شعیب اختر کی بات نا صرف کاٹ رہے ہیں بلکہ جملے کے آخر تک بھڑک اٹھے اور انکو شو سے نکل جانے کا کہہ کر وقفہ لے لیا۔ 

یہ پاکستان کے قومی ہیرو کی بہت بڑی بے عزتی تھی۔ اس کے بعد شعیب اختر نے اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مزاق ہے ہم دوست ہیں اور ایسی کوئی بڑی بات نہیں۔ شعیب اختر کی ایسی کوشش یقینا انکا بڑا پن تھی مگر اسکے باوجود جب شعیب کو  آن ائیر نعمان نیاز کی معزرت موصول نہیں ہوئی اور انکے کہنے کے باوجود بھی نعمان نے معزرت نہیں کی تو پاکستانی ستارہ کرکٹرز اور غیر ملکی ستاروں کے سامنے ہتک آمیز سلوک سہنا شعیب کو گوارا نہ ہوا اور وہ استعفی دیتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 

شعیب اختر ریٹائرمنٹ کے بعد سے مستقل دس پندرہ سالوں سے تجزیوں اور تبصروں کا حصہ ہیں نا صرف پاکستانی چینلوں پر بلکہ بھارتی اور دیگر غیر ملکی چینلز پر بہت مشہور ہیں اپنے دو ٹوک ، ماہرانہ تبصروں کے باعث۔پاک بھارت کرکٹ کے دوران جب بھارتی میڈیا بے لگام زبان استعمال کرتا ہے شعیب اختر ہمیں ترکی بہ ترکی جواب دیتے پاکستان کا مقدمہ لڑتے نظر آتے ہیں۔ایسی بدتمیزی کرنے کی کبھی کسی بھارتی کو بھی جرات نہ ہوئی کہ ہمارے لیجنڈ کرکٹرکو الٹا سیدھا کچھ کہہ سکیں مگر ہمارے اپنے سرکاری چینل پر ایک ایسا میزبان جسکو بات تک کرنے کی تمیز نہیں وہ ہمارے اتنے بڑے ستارے کو یوں بد لحاظی سے جانے کو کہہ دے شرم کا مقام ہے۔پاکستان ٹیلی وژن نے اس پر انکوائیری کمیٹئ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے مگر یہ ایسی حرکت کی گئ ہے جس پر میزبان کو فوری طور پر نا صرف معزرت کرنے پر مجبور کرنا چاہیئے بلکہ ان سے استعفی بھئ لے لینا چاہیئے۔یوں جب لاکھوں لوگ آپکا پروگرام دیکھ رہے ہیں ایسی نازیبا حرکت پاکستان ٹیلی وژن پر ہونا شرمناک ہے۔ 

کیا ہمارے میزبان صاحب سے اختلاف رائے ہونا قابل گردن زنی جرم ہے؟؟؟۔یہ کس قسم کے تجزیہ کرنے والے ہیں جو اپنے مئوقف کے خلاف بات کرنے والے کو بے عزت کر دیتے ہیں۔ نیز یہاں پر باقی تجزیہ کاروں کا رویہ بھی قابل مزمت ہے کہ بجائے اس موقع پر شعیب کا ساتھ دیتے نعمان نیاز نامی اس غیر معروف میزبان کو اسکے نازیبا رویئے کا احساس دلاتے یا جب شعیب اختر پروگرام سے جانے کا فیصلہ کرتے انکو روکنے کی کوشش کرتے یا اظہار یک جہتی کرتے ہوئے خود بھی اس پینل کو چھوڑ جاتے وہاں موجود ان بڑے بڑے ناموں جن میں اظہر محمود ، ثنا میر اور عاقب جاوید وغیرہ بھی تھے انکو شعیب کے ساتھ اٹھ جانا چاہیئے تھا۔جس بد تمیز اور بدلحاظ رویے کی بنیاد رکھ دی گئ ہے سرکاری چینل پر وہ دن دور نہیں جب شعیب کی طرح ان میں سے بھی کسی کو یوں نکل جانے کا کہہ دیا جائے۔ اس بات کا فوری سدباب کرنے کی ضرورت ہے۔ 

پاکستان ٹیلی وژن کا معیار دن بہ دن جس طریقے سے گرتا جا رہا ہے اس سے ایک سوالیہ نشان عوام کے سامنے آرہا ہے کہ آخر ہم کہاں جائیں۔ پاکستان ٹیلی وژن مستقل خسارے میں ہے اور اسکے خسارے کو پورا کرنے کیلئے عوام سے ٹی وی لائسنس فیس بجلی کے بلوں میں وصولی جا رہی ہے مگر آخر پاکستان کا اپنا سرکاری ادارہ دن بہ دن تنزلی کی طرف گامزن جن لوگوں کی وجہ سے ہے ان سے کب اور کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: