Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

Operation Romeo
بڑے عرصے بعد انڈین فلم دیکھی اور وہ پسند بھی آگئ۔
فلم کا نام ہے آپریشن رومیو جبکہ ہونا چاہیئے تھا اس فلم کا نام ” مرد کون ، میں ہوں مرد، کیونکہ مرد بھی کبھی مرد تھا، نہیں جچا نہیں ہونا چاہیئے تھا مرد ہمیشہ مرد ہوتے ہیں، مرد گھر گھر کے، یا پھر نیہا کے ساتھ کیا ہوا؟ بلکہ نہیں آدی کے ساتھ کیا ہوا ذیادہ جچ رہا ہے نام۔یا چلو جانے دو۔ یہ نام بالکل نہیں جچا اس فلم پر آپریشن رومیو۔ اب رومیو ہے اور کر رہا ہے ان کائونٹر؟
عجیب اور نئی بات ہے نا؟ خیر ںیٹ فلیکس پر ہے دیکھ سکو تو دیکھو نہیں تو اس چٹپٹے تبصرے پر گزارا کرو۔
کہانی ہے ایک 19 سالہ لڑکی اور ایک نجانے کتنے سالہ لڑکے کی ٹھہرو۔اسکا اے ٹی ایم کا پاسورڈ تھا 1991 ۔ چلو مسلئہ ختم۔ ہاں تو کہانی شروع ہوتی ہے رومیو جولیٹ کی پیاری سی پیار کہانی۔ ایک کالج کی طالبہ دقیانوسی گھرانے کی دوسرے شہر میں ہاسٹل میں پڑھتئ ہے اور ایک عدد برسر روزگار سلجھا ہوا شریف لڑکا جو اس لڑکی کو اسکی سالگرہ پر سرپرائز بھی دے گا اور شادی کیلئے پرپوز بھی کرنے لگا ہے۔ کوئی اسکی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے سے جا بھڑنے کا بھی شوقین۔ دونوں نے منصوبہ بنایا لانگ ڈرائیو پر جانے کا ممبئی سے نکل کر دہلی جانے کا وہاں سے سورج نکلنے کے ساتھ واپسی۔ اب اتنی لمبی لانگ ڈرائیو کچھ تو ہوگا ہی۔ جی ہوا۔ ایک اسپتال کے احاطے میں گاڑی روک کر رومان جھاڑنے کی کوشش ہی کی او رپھڑے گئے پولیس والے کے ہاتھوں۔اب اس نے کیا انکو اگلے کئی گھنٹے ہراساں اپنے جونئیر کے ساتھ مل کر اور ان سے پیسے بھئ اینٹھے۔ موصوف اے ٹی ایم گئے پیچھے گاڑی میں پولیس والا اور نیہا اکیلی تھی۔ گاڑی پولیس والے نے لاک کر لی۔ اب یہ اے ٹی ایم سے پیسے نکال کر واپس آیا تو بوکھلا گیا پریشان ہوا۔ بس یہاں سے کہانی شروع ہوئی اور اگر فوری جاننا ہو کہ نیہا کے ساتھ کیا ہوا تو آخری دس منٹ پر بڑھا کر دیکھ لینا۔
کہانی سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔
نئے لورز کیلیئے
اپنے شہر کا چوراہا اچھا دوسرے شہر کے کونے سے۔
نیا محاورہ ایجا دکیا ہے بھئ۔ اتنا تو حق بنتا مجھے
دکاندار کیلئے۔
حساب سیکھو ورنہ مفت میں لٹا کروگے۔مینٹوس ، ایک بوتل سوڈے والی ایک سادے پانی والی چپس کا پیکٹ ہوئے ایک سو ستر روپے۔ ( انڈیا میں یہاں تو یہ سب پانچ سو میں ہی آتا ہے) تو وہ چاکلیٹ کیوں دی اسے؟ ڈیڑھ سو والی ہی لگ رہی تھی دیکھنے میں تو۔ اس طرح تو کنگلے ہو جائو گے بھائئ
پولیس والے انکل کیلئے۔
چیونگم کو ذیادہ نہیں کھینچنا چاہیئے۔ سچی یہی سبق ملا چپک جاتی ہے۔ حالانکہ یہ انکل ٹرین کا انجن بنے دھواں چھوڑ رہے تھے سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک کر ایک بار بھی چیونگم نہیں کھائی۔ ہیرو بھی بس مینٹوس ہی لیکر آیا تھا چیونگم نہیں۔
پولیس والے انکل کے ساتھی کیلئے۔
دل کے اچھے ہو تو دل کے بروں سے دو ررہو ورنہ زندگئ میں بڑی بری گھڑی آئے گی۔ ویسے ممبئی سے دہلی رکشے میں جایا جا سکتا ہے؟؟
پولیس والے انکل کی بیٹئ کیلئے۔
پاپا کا پیشہ جان کر جیو۔ پاپا نے باہر نئی کہانیاں ڈالنی ہے اور تم نے کتے کے جسم پر پاپا کا سر دیکھ کر رونے ڈالنے۔ حالانکہ پاپا کی بعد میں ذیادہ کتے والی ہوئی۔
پولیس والے انکل کی بیوی کیلئے۔
سائوتھ انڈین ہو مانا مگر بھومیکا اتنی پکوڑے جیسی گول سی ناک ہے تمہاری اس پر دو کلو کا نتھ بھی ڈال لیا ناک کا حشر ہو جائے گا اگر پھیل گئ تو۔ باقی پیاری لگ رہی تھیں تم۔ ہاں تمہارے لیئے سبق ہے۔ شوہراگر گدھے جیسا ہے تو اسے جانور ہی سمجھوکھانا بھی کھلائو اور باندھ کے بھی رکھو ورنہ کوئی راہ چلتا گھر آکر اسکی دونوں ٹانگیں توڑ دے گا اور اگلے کئی مہینوں اسکی خدمت بھئ کرنی پڑ جائے گی۔ اب ٹوٹی ٹانگوں والا گدھا صرف ایک بیوی ہی سنبھال سکتی ہے نا۔
ہیرو کیلئے۔
دیکھو پہلی فرصت میں شادی کرلو۔اسکا ایک فائدہ ہوگا اٹھتے بیٹھتے بیوی نے اتنی کھری کھری سنانی ہے کہ عادی ہو جائو گے۔ جوش ووش کبھی ہوش کھونے نہیں دے گا۔ایک ٹپ دے رہی ہوں۔ اگر لڑکی کچھ بتانے خے موڈ میں نہیں تو مت پوچھو۔ سچی ۔لڑکیوں کے پیٹ میں ذیادہ دیر کچھ ٹکتا ویسے بھی نہیں خود ہی سب سے پہلے ہر بات اگل دینی مگر تب تک تم کے ٹو سر کرلو ، مریخ کی سیر کر آئو کچھ نہیں تو بگ باس دیکھنے بیٹھ جائو مگر اس سے پوچھو نہیں۔ اس نے ساس بھی کبھی بہو سے بڑا لمبا سیریل چلانا ہے بات بتانے کے نام پر اور بتانا پھر بھی تب ہے جب اسکا دل کرے گا۔ دوسرا لڑکیاں طنز کرنے کی ماہر ہوتی ہیں انکے طنز سہنے کی عادت ڈالو زندگی سکون سے گزرے گی۔ اب انکی ہیروئن نے ذرا سا طنز کیا اور تحمل مزاج سادہ بندہ خونخوار جانور جیسی کینچلی بدل گیا اس نے طنزیہ کہا ” like a man” بس دھن سوار ہوگئ اب اس کو مرد بن کے دکھانا ہے۔ سب سے بدلہ لینے پہنچے۔ ویسے سب سے اچھا بدلہ نیہا نے لیا سچی۔
ہیروئن کیلئے۔
ماشا اللہ سے خالص مشرقی روائتی بےکار والی ہیروئن تھیں یہ آخری منظر سے پہلے تک۔ آخری منظر میں انہوں نے جو کینچلی بدلی میری نئی پسندیدہ ترین بن گئ ہے یہ۔ پہلے پندرہ منٹ کے بعد اس بندی نے جو رونا دھونا مچایا مجھے لگنے لگا تھا کہ ممبئی کے بعد اس بار سیلاب دہلی میں آئے گا۔ خیر۔ مگر یہ موصوفہ لڑکیوں کی سب سے سمجھدار اور عقلمند والی قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک روائتی ممی ڈیڈی لڑکے کو بروقت طنز کی مار مار کر ایک عدد ہیرو میں بدلا اور اپنی اسی خوبی کو استعمال کرکے اس ہیرو کو چغد بھی ثابت کیا۔ مطلب ہر طرح سے میری پسندیدہ ہیروئن ہے یہ۔ اس بندی نے جو دھول چٹائی ہے اس فلم میں مردانگی کا شکار چند مردوں کو اس نے میرا دل جیت لیا۔ شاباش لڑکی ۔ زبردست ۔ بہت آگے جائو گئ زندگی میں۔
ذاتی رائے۔
ویسے تو مجھے یہ فلم اچھی لگئ ۔ زبردست نیا ہیرو ہیروئن کو بس ایک ritviz کے گانے میں دیکھا تھا اور اس بندی نے اس گانے میں جو تباہی مچائی ہے اتنے پیارے تاثرات اتنی زبردست اداکاری اسکو یہ فلم ملنی چاہیئے تھی۔ اور مزید بھی ملنی چاہیئیں میرے خیال میں۔ ہاں تو اداکاری میں لڑکے نے بھی جان مار دی۔ فلم میں پہلے آدھا گھنٹہ بندہ یہی سوچتا رہتا آگے کیا ہوگا؟ نہیں بھئ آگے جو ہونا وہ کب ہوگا ؟ کہانی چونکا دیتی ہے ایسے موڑ مڑتی جاتئ ہے مگر سب سے اچھا لگا مجھے اسکا انجام۔ برصغیر کے مردوں کی روائتی سوچ روائتی طرز فکر کے منہ پر طمانچہ مارتا ہوا۔ بالکل الگ اورمختلف۔ اصل ہیرو کون ہوتا کیسا ہوتا وہ اس نظریے سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ہم اپنے ارد گرد لوگوں کی سوچ میں دیکھتے ہیں۔ مجھے مزے کی لگی فلم سادہ سی ہے ہلکی پھلکی بالکل نہیں دماغ جھنجھنا دے گی تو تم سب بھی دیکھو اور مجھے بھی بتائو انجام ٹھیک تھا نا؟؟؟؟
Desi Kimchi ratings : 4/5

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: