Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

آج کا ڈرامہ ہے اورنج مارملیڈ
یہ اتنا کوئی جزباتی کر دینے والا ڈرامہ ہے کہ بس اخیر۔
اس ڈرامے کو دیکھنے کی وجہ یہ ہے دائیں جانب جو پارو سا لڑکا ہیروئن کو ترسی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا دوسری وجہ وہ جو بائیں جانب کھڑا ہے اور نہ دیکھنے کی پہلی وجہ یہ بیچ میں کھڑی ہے۔۔
Orange Marmelade
اورنج مارملیڈ

اس ڈرامے کو دیکھ کر احساس ہوتا ہم انسان کتنے سنگدل ظالم لوگ ہیں یار پوری دنیا پر چھائے بھرے پڑے اور ایک معدوم ہو جانے والی مخلوق خون آشام بلا ئوں جسکو عرف عام میں ویمپائر کہتے کے دشمن ہوئے ہیں۔۔ چین سے انہیں اپنا خون پینے نہیں دیتے کوئی حد ہے۔۔ کیا فرق پڑ جائے اگر کوئی آپکی گردن میں دانت گاڑ کر ایک دو گلاس خون پی لے کیا برائی ہے اسمیں۔۔ مگر نہ جی دشمن ہوئے ہیں بے چاری بلائوں کے چن چن کر مار دیتے زبردستی انہیں سبزی خور بنایا ہوا ہے خود تو بھر بھر گوشت کھاییں اور بے چارے ویمپائر ٹماٹر کے جوس کے ڈبے میں زرا سا خون ڈال کر پیئیں اور بھوک مٹائیں اپنے ایمان سے بتائیں اتنے سے خون سے کیا پیٹ بھرتا ہوگا۔۔
اس ڈرامے سے سیکھے گئے اسباق
لڑکوں کیلیئے۔
آپکی والدہ آپکے والد کے بعد کسی خون آشام بلا سے شادی کر لیں تو صبر کریں ورنہ آپکو بھی کسی خون آشام بلا سے محبت ہو جائے گی۔۔
لڑکیوں کیلئے۔۔
کوئی سبق ہے ہی نہیں اگر آپ خون چوسنے والی بلا نہیں تو لڑکے پٹانے کا کوئی طریقہ کم از کم اس ڈرامے میں نہیں بتایا گیا۔۔ ہاں گر چڑیل ہیں آپ تو شاباش ہنڈسم لڑکا خود آپکے پیچھے آنے والا ہے۔۔
سائیڈ ہیرو کیلیئے۔۔
دیکھو بھائی تم جتنے بھی ہینڈسم ہو جائو ایک مکمل خون آشام بلا ہی کیوں نہ ہو اور ہیروئن تمہاری بچپن کی دوست ہو ایک نمبر کی چڑیل ہو بچپن میں مل کر خون کیوں نہ پیا ہو جانتی ہو تمہیں اچھی طرح تمہارے پورے خاندان سےواقف ہو پچھلے جنم سے اس سے بار بار ٹاکرا ہوتا رہا ہو ۔ تم جتنے مرضی با صلاحیت ہو اخروٹ سے دانت توڑ سکتے یا ہوائی جہاز اڑا سکتے ہو۔ غائب ہو سکتے ہو دیوار سے آر پار ہو سکتے ہو الٹے لٹک سکتے ہو سیدھے چل سکتے ہیروئن کے پارٹ ٹائم پالتو کتے بن کر پھر لو ۔۔۔۔ مطلب کچھ بھی کر لو ہیروئن تمہاری نہیں ہو سکتی
اس ڈرامے کو دیکھنے سے بہتر سب کچھ اور اگر دیکھنا ہی ٹھہرا تو ہائے سائید ہیرو پر کرش نا پال لینا ورنہ ڈرامے کے آخر تک تو ہیروئن پر سو لعنتیں تو بھیج ہی چکے ہوگے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: