Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

My 19th life
ایک تو مجھے شکوہ ہونے لگا ہے مجھے ایک ہی زندگی ملی ہے اور وہ بھئ چھوٹی سئ دن پر لگا کر اڑ رہے رات کے ڈرامہ دیکھنے میں جانے کدھر بھاگئ جاتی یے او رپھر جون میں اتنے سارے نئے کے ڈرامے۔ یہ والا نیٹ فلیکس پر بھی ہے۔ کہانی ہے ایک عدد خاتون کی جو نامعلوم وجوہ کی بنا پر 18 دفعہ پیدا ہو کر مریں ہیں او رپھر پیدا ہوگئ ہیں۔ شروع کے مناظر میں ایک عدد آٹھ نو سال کی بچی اچانک اپنی 18 گزشتہ زندگیوں میں گزرے حالات و واقعات یاد کر بیٹھتئ ہے مگر سب سے ذیادہ یاد ہے اسے ہان سیو۔ کیوں بھلا؟ کیونکہ باقی سترہ زندگیوں میں وہ ہر دفعہ لڑکی بن کے پیدا نہیں ہوئیں۔ کبھی جھڑوس چچا تو کبھئ خوش شکل نوجوان کبھی بڑھیا ہو کر مریں کبھی بارہ سال کی عمر میں ہی داغ مفارقت دے گئیں وہ بھی ہیرو کو۔ اب باقی جتنی غیر رومانوی اموات تھیں انکا آگا پیچھا کچھ یاد نہیں یاد ہے بس ہان سیو جو ان سے عمر میں تین سال چھوٹا تھا موٹا تھا پیارا تھا اور انکے ساتھ ہی حادثے کا شکار ہواتھا مگر وہ تو بچ گیا یہ پھر پیدا ہونے کی وجہ سے اب نو سال کی رہ گئ ہیں اور ہان سیو اٹھارہ کا ہوچکا ہے۔ خیر یہ اپنی پچھلی زندگیوں کی یادداشت کھنگالتے سترہویں دفعہ والی زندگی جس میں وہ چچا تھیں ایک موٹی پیاری بچی کی اس بچی کے پاس پہنچی جو نہ اب موٹی تھی نا پیاری نا ہی بچی اب وہ ایک ادھیڑ عمر خاتون تھیں۔ انکو یہ بتا کے حیران کیا ایک عدد نو سالہ بچی نے کہ وہ انکا مرحوم چچا یے اس بات پر ان آنٹی نے پال لیا۔ اب ہان سیو اٹھارہ کا یہ نو کہ کہانی آگے بڑھی ہان سیو جرمنی چلا گیا یہ پڑھ لکھ کر نواب بن گئیں۔ اب ہیروئن ہر فن مولا قسم کی کھڑپینچ خاتون ہے نوکری کرتی ہے سی وی بڑا لش پش ہے مگر ہے چوبیس سال کی بس۔ اب ہان سیو نے ظاہر ہے واپس آنا ہے آگیا یے یہ انٹرویو دینے پہنچ گئیں اسکے ہوٹل میں پکارا اس نے سنا نہیں کیونکہ جس حادثے میں وہ مر کر پیدا ہوبھئ گئیں اس سے ہان سیو بہرا ہوچکا ہے۔ کان میں آلہ لگاتا ہے۔ اسکو سنائئ دیتا ہے کہ ہیروئن نے انٹرویو دینے کے دوران کہا ہے مجھ سے میل ملاپ بڑھائوگے؟ اور مزے کی بات یہ صحیح سنا
لگا نا سب کچھ پہلی قسط میں ہو گیا ہے۔اب لگتا یے دوسری قسط میں کچھ باقی نہیں۔ کیونکہ اگلی قسط کی جھلکیوں میں وہ اپنا رشتہ دے گی خالص روائتی کہانی ہیروئن چپکو بن کے اب پٹائے گئ جانے کہانی یہیں رک جائے گی یا آگے بڑھ جائے گی عموما پہلی دو قسطوں کے بعد ہی میں تبصرہ لکھتی پر آج پہلی قسط پر لکھ دیا سو ریٹنگ محفوظ کل اگلی دیکھ کر بتائوں گئ آج تو مجھے مائی اسٹرینجر نے بھونچکا کر رکھا ہے آخری سے پہلی والی قسط میں قاتل کا راز کھلا اور پھر بھی آخری قسط تک کہانی مزید کھینچ گئے ہیرو ہیروئن کو 1987 میں پھنسا چھوڑ کر صحیح خرافاتی دماغ ہے بھی اعلی مزا آگیا کل ہوتو گئ کوریا میں 19:50 کب بجیں گے بھئ؟

Join Amazon Prime – Watch Thousands of Movies & TV Shows Anytime – Start Free Trial Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: