Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

یہ دیکھی۔ شروعات ہندی سے ہوئی بیٹھے بٹھائے۔ بھلا کیوں؟ کوئی پرانے زمانے کی سنسکرت کی کہانی ہے کہ جس میں بدھا نے شیطان کی لال اور کالی آنکھیں الگ الگ دنیا کے دو کونوں میں دفنا دیں اور جیسے ہی یہ دونوں آنکھیں ملیں گی دنیا پر تباہی اور آفتیں آئیں گی۔ ویسے جیسا 2020 گزرا اور 2021 گزر رہا لگ یہی رہا کہ یہ دونوں آنکھیں نا صرف مل چکی ہیں بلکہ ہم سب کو گندی نظروں سے گھور بھی رہی ہیں۔
خیر بات آئی گئ ہوگی۔ اب ہوا یوں کہ ایک پروفیسر صاحب نے اس پرتحقیق کی اور ان دونوں آنکھوں کو ملانے کی ٹھانی۔
گئے انڈیا پاکستان کی سرحد پر اور ہم پاکستانیوں سے پوچھے بغیر صحرا سے کھود کر وہ آنکھ نکال لی۔ اب اس آنکھ کو دوسری آنکھ سے ملانے کیلئے خود کو اور 8دوسرے لوگوں کو جوکھم میں ڈالا۔ اب اس آنکھ کا سنو ۔ یہ نہیں کہ لڑھکتی پڑھکتی جائے مل جائے دوسری آنکھ سے کسی کو خاک پتھر پتہ بھی نہ لگے ایک چھوٹی پنگ پانگ بال کے برابر آنکھ گھوم پھر رہی ہے کوئی دیکھتا تو کونسا اٹھا کر اپنی آنکھ میں ٹھونس لینا تھا بلکہ ہلکی سی ٹھوکر مار کر آگے ہی بڑھا دینا تھا جیسے ہم کرتے ہی ہیں کوئی خالی جوس کا ڈبہ سڑک پر میٹھی نیند سو رہا ہو یا کوئی پتھر آپکی راہ میں آئے بنا سکون سے استراحت فرما رہا ہو تو آتے جاتے بلاوجہ لات مار کر اپنی زندگی کی سب پریشانیوں سے نجات پا جاتے مگر یہ آنکھ نجانے کیوں احمق ترین آنکھ ہے۔ یہ آنکھ روز ایک انسان سے گزر کر سات لوگوں میں سےسات دنوں میں گزر کر ایک کنواری راہبہ میں جاگھسے گی اور پھر آٹھویں روز ناقابل تسخیر ہو کر اپنی دوسری آنکھ سے ملے گی وہ کیسے کیوں بتایا ہی نہیں شائد اسکا پارٹ ٹو بنانے کا ارادہ ہے
خیر۔ اس آنکھ نے سب کی وہ آنکھیں نکالیں کہ کیا بتائوں دیکھ لینا۔
اس کہانی سے بہت سے سبق ملتے۔
پہلا راہب انکل کم مزدور کیلئے
او بھئی جو کام کرنا آتا وہ کرو نہیں تو مزدور بننا پڑا نا ۔ یہ موصوف بھوتوں کا شکار کر سکتے ہیں مگر کرتے نہیں اینٹیں ڈھوتے ہیں مزدوری کرتے ہیں رات کو کمرے میں بیٹھ کر دیوار گھورتے ہیں۔ خیر اپنی اس قسمت کی وجہ سے تنگ ہیں اور انکو قسمت سے یہی کام کرنا پڑتا ہے قسمت سے بھاگ سکا ہےکوئی؟
راہب انکل کیلئے۔
زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں۔ انکی تو موت کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ بیٹھے بیٹھےمرگئے۔اب جانے انکی قبر کیسے بنی ہوگی مینار کی طرح کہ کیا۔اوپر سے خود تو دنیا بھر کو بھاشن جھاڑتے اپنے شاگرد کو چپ شاہ کا روزہ رکھوا دیا اور مر بھی گئے۔ وہ تو چلو انکو پتہ نہ ہوگا کہ یوں مر جائیں گے مگر حیرت تب ہوئی جب سب کو پتہ بھی لگ گیا کہ وہ بیٹھے بیٹھے کوچ کر گئے ہیں تب بھی کسی نے انکو لٹانے سیدھا کرنے آنکھیں بند کرنے کی کوشش نہ کی۔ ظالم لوگ ایسے ہی دفنا بھی دیں گے تو بے چارے قیامت تک بیٹھےرہ
گئے نا؟
پولیس والے انکلوں کیلئے۔۔
بھئی جو قتل کا معمہ حل نہ ہو اس آنکھ کے کھاتے میں ڈال دو معاملہ ختم۔موصوف ٹکے کا تعویز گنڈوں پر اعتبار نہیں کرتے مگر وہ وہ چپیڑیں کھائیں بھوتوں سے کہ مزا آگیا انکے جھٹلانے پر انکو مزید سخت سزا ملنی چاہیئے تھی۔اپنے عزیز دوست کے خون سے بنا تعویز جیب میں لیئے پھرتے رہے بچ بھی گئے دوست احمق کو دیکھو ایک اپنے لیئےبھی بنوا لیتا تعویز؟ خود آنکھ کا شکار بن گیا۔ پاگل کہیں کا۔یہ انکل کو بچانے کیلئے دوسرے انکل دوسری مرتبہ بھی غلطی کرتے اور مر کے ہی دم لیتے۔مطلب دیکھ رہے ہو اگلا بھوت بنا ہوا پھر بھی وہ دوسروں کا خوب پی جائے مگر اسے جوابا کوئی مارے نا بے چارے راہب کم مزدور انکل
شاگردوں کیلئے۔
بھئ ہر آلتو فالتو باتیں نا مان بیٹھا کرو۔ اب ایک تو اللہ نے تم کو بولنے سننے سمجھنے کی صلاحیت دی استعمال میں لائو کجا چپ رہ رہ کر کاغذ ضائع کرتے رہے ۔ ایک تو کوڑا پھیلایا اوپر سے کاغذ پتہ ہے نا کتنے درخت اجاڑ دیتا سالانہ۔ قدر کرو کاغزوں کی ۔ اور ہاں نوجوان لڑکوں کو خوبصورت بھوتنیاں دکھائی دیتی ہی ہیں انکو اپنے ساتھ ٹانگ کر پھرنا حماقت ہے۔
کنواری راہبہ کیلئے۔
موصوفہ کو حماقت کا کوئی اعلی درجہ حاصل ہے۔انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتیں رہیں ظلم و ستم سہے اور جب یہ سب کچھ ختم ہوگیا اور آنکھ انکو ملنے آنے والی تھی تو مرگئیں وہ بھی خود کشی کرکے۔ حالانکہ آنکھ نے کونسا چھوڑ دینا تھا مار ہی دیتی۔ویسے ایک بات سمجھ نہ آئی۔ پورے کوریا میں بس ایک ہی کنواری راہبہ تھی؟ میرا یہ مطلب نہیں کہ کنواری لڑکیاں نہیں ہونگی کوریا میں مگر راہبہ بس ایک؟ کتنا مایوس کیا ہوگا آنکھ کو اس نے۔
آنکھ کیلئے۔
بھئی آنکھ ہوآنکھ ہی رہو یہ فل آن چیز مسکرانے کی کیا ضرورت ہے ۔اس آنکھ کے شکار کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں بن جاتی ہیں سمجھ آتا پر لگتا یہ آنکھ اپنے ساتھ بتیسی بھی لیکر گھومتی ہے۔ اس آنکھ کا شکار ہنس ہنس کر مارتا پھر رہا تھا۔پہلی فلم دیکھی جس میں خونی درندے کولیگیٹ کے اشتہار سے ذیادہ بڑی ہنسی ہنس کر جان لیتے۔ایک دو بار تو ایکدم سے یوں ہنسے کہ دل ہی تھم گیا ۔ خیر بڑا مایوس کیا۔ آنکھ جاتے ہوئے مردے کا حال دی ممی کے درندے جیسا کردیتی تھی سوکھ کر خالی اسختوان رہ جاتا بس۔ اسکی بجائے پورے جسم پر آنکھ کی شکل کے دانے ابھر آتے تو کوئی نئی چیز دیکھنے کو ملتئ ہے نا؟
ذاتی رائے۔
خالص روایتی ہارر مووی ہے۔بس منطق کا قتل عام ہے جیسا کہ ہر ہارر مووی میں ہوتا۔ ایک جگہ راہبہ بتاتی ہے کہ پولیس والے انکل نے اپنے ساتھی کو جب وہ پانی میں ڈوب رہا تھا بچا کر غلطی کی اب بتائو ذرا آپکا کوئی ساتھی پانی میں ڈبکیاں لگا رہا ہو تو اسے مرنے دیں گے کہ کل کلاں کو اسکی کوئی آنکھ نہ جاگ جائے؟ دوسرا خودکشی کسی مسلئے کا حل نہیں۔فلم دیکھتے انکے اعتقاد دیکھتے لاکھوں بار خدا کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ ہم مسلمان ہیں۔ہر شیطانی قوت پر سب سے پہلے یہ سوچتے کہ یہ ہمارے عمل سے ذیادہ طاقتور ہوسکتی دوسرا انسان کاغذ کے ڈھیر تھے ان شیطانی قوتوں کے آگے جلا دیں مادیں انکو جیسے سب اختیار جبکہ حقیقت میں ہم اشرف المخلوقات ہیں ان چیزوں کی اوقات نہیں کہ اتنی آسانی سے نقصان پہنچا دیں دوسرا ہر اس چیز جسکی طاقت آپ سے ذیادہ اسکا مطیع بننا اف۔ سچ میں دل کرر ہا تھا لاحول پڑھ کر آنکھ کی ۔۔۔۔ آنکھ کردوں ۔ایک چیز اور الومیناتئ یا شیطان ایک آنکھ والے دجال کے انتظار میں ہیں اس فلم کو دیکھتے یہ احساس ہوتا ہے کہ دجال کی آمد کی منظر کشی کی گئ ہے۔ آنکھ کی کہانی مماثلت رکھتی ہے ان تمام شیطانئ عقائد کی
سو فلم تھی دیکھ لو مگر سبق لینے نا بیٹھ جانا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: