Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

begin youth

اس ڈرامے کا نام begin youth کی بجائےEnd Youthہونا چاہیئے تھا۔ مطلب معصوم نوجوان لڑکوں کو ایسی زندگی دی کہ سب کتے کی موت مرنے کی دعا کرنے لگے ۔ ایک ایم وی تھا آگیں لگانے والا انہوں نے بارہ اقساط جلا کر بھسم کیا زندگی کی خوشیوں کو چین کو سکون کو۔ دل بھر کے۔

کہانی سات لڑکوں کی ہے جن میں دو امیر ہیں باقی غربت کی لکیر سے کیا نیچے کیا غربت کی پاتال میں رہتے ہیں۔ پھر غریب انسان کی کیا زندگی ہو لسکتی۔ ویسی ہی زندگی۔ سچ پوچھو تو 90 فیصد پاکستانیوں کی اس سے بھی ذیادہ کتے والی زندگی ہے لیکن یہ ناشکرے لڑکے رو کر اور پیٹ کر وہ بھی ایک دوسرے کو بارہ اقساط بمشکل جیتے ہیں۔ بارہویں قسط نہ ہی ہوتی تو بہتر رہتا ویسے۔

کہانی سے سبق ملتے ہیں۔

ناہنجار شوہروں کیلئے۔

پی کر دھت ہو کر بیوی بیٹی اور اگر بیٹا ہے تو اسکی بھی پٹائی کیا کرو بیوی نے سارا خرچہ خود اٹھاتے الگ رہنے لگنا ہے پھر تم ہو گے تمہاری بوتل اور پیٹنے کیلئے ایک آدھ بیٹا ہو تو مزے ہیں۔یہ خیال پکا انہوں نے پاکستانی لوئر مڈل کلاس مردوں سے چرایا ہے۔یہاں پی کر دھت ہونے کا رواج ہے لیکن چرس پی کر ۔ وہاں سوجو چلتی تو انہوں نے پاکستانی ڈراموں سے یہ خیال چراکر اپنے رنگ میں پیش کیا۔ نقلچی طوطے کہیں کے۔

نفسیاتی بیوی کے شوہروں کیلئے۔

بیوی کو فوری طلاق دو۔ ورنہ وہ خود تو پاگل ہے بچوں کو بھی نیم پاگل کردے گی۔ یہ انکل وقت پر طلاق دے کر دوسری شادی کر لیتے تو خرم زندگی گزارتے۔

پڑھاکو بیٹوں کی مائوں کیلئے۔

قسمت والی ہو شکرانے کے نفل پڑھا کرو دنیا کی متروک ترین مخلوق تمہارے گھر پیدا ہوگئ ہے۔ مطلب یہاں کی ماں ہوتی تو ایسے بیٹے کے پائوں دھو دھو کر پیتی جو اسکالر شپ لے رہا دن میں دو نوکریاں کرکے اپنا اور گھر والوں کا خرچہ اٹھا رہا۔ یہاں تو بیٹوں کو ٹرے میں لگا کرکھانا دو تب بھی شاندار طریقے سے فیل ہوتے سینے پر چڑھ کر اپنے خرچے کے پیسے نکلواتے ہیں۔ناشکری کورین آہجومہ

امیر لڑکوں کیلئے

امیر لڑکوں سے دوستی کرو۔ جتنا بے چارے یہ دو امیر لڑکے ان پانچ غریب ترین لڑکوں کے ساتھ ذلیل ہوئے قسم سے یہی سبق ملتا۔ مطلب ایک امیر کبیر امریکہ سے پڑھ کر آنے والا امریکہ جا کر بقیہ تعلیم مکمل کرنے والا جس کے پاس ابا کا کریڈٹ کارڈ ہو کیا عیش نہیں کر سکتا الٹا ان پانچوں کی فکروں میں ہلکان کبھی پیدل بھاگ رہا کبھی گاڑی سے ٹکرا کر بچانے پہنچ رہا پھر ابا کی معشوق ڈھونڈتا پھرا۔ یعنی اپنی زندگی میں کوئی مسلئہ نہیں تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنے پڑے۔ اور ان پانچ منحوسوں کے پیچھے مرتا پھرا کوئی تک بنتی بھلا۔

سوتیلے ابا کے بیٹوں کیلئے

قدر کرو اپنے ابا کی انکے پیسوں کی۔ اور سگے اباکے وقت پر مرجانے کی جسکی وجہ سے اماں نے سوتیلے امیر ابا لا کر دیئے تمہیں۔ یہ دکھی کہ سوتیلے ابا پوچھتے نہیں۔ یہاں کے لڑکوں سےپوچھو سگے ابائوں کی پوچھ گچھ کا حال۔ اتنا پوچھتے کہ اللہ پوچھے۔ سنو بھیا سگے ابا تمہارے ابا سے ذیادہ اپنی سگی اولاد کو مارتے پیٹتے کوستے ذرا پاکستانی لڑکوں سے پوچھو ۔ الٹا تمہارے سوتیلے ابا نے جتنا پیسے دے کر رکھا نا اتنے پیسے پاکستانی لڑکے روز سودے سے بیس تیس بچا بھی لیں تو سالوں میں اتنے پیسے نہ جمع کر پائیں۔مگر یہ کورین ناشکرے۔

پڑھاکو لڑکوں کیلئے۔

بیٹا پڑھائی کے پیچھے بھاگو پڑھائی بھاگ بھاگ کے تم سے دور جائے گی۔ ان بھائی کووظیفے ملے تب بھی پڑھائی مکمل نہ کرسکے گھریلو حالات کے باعث مزید پڑھنے کے شوق نے انکی زندگی حرام کردی ایک یہ شوق چھوڑ دیتا تو زندگئ میں بھائی کے کوئی مسلئہ نہیں تھا۔ مہینے کا خوب کماتے شکل کے بھی ٹھیک۔ انکو ایک مشورہ پاکستان آجائو۔ ایسے لڑکے کی یہاں آرام سے ایم اے پاس لڑکی سے شادی ہو جاتئ ہے اور وہ چھچھورئ ہوکر سہیلیوں کے سامنے بڑکیں مارتی ہے۔ میرے میاں کوریا میں ہوتے ہیں۔ وہاں پیٹرول پمپ پر کام کرتے جملہ شامل نہیں کیا جاتا یہ یاد رہے بس۔

اچھے بیٹوں کیلئے۔

برے بیٹے بنو ابا اچھےمل جائیں گے۔ برے ابا کو جتنا پیار کرنے والا بیٹا ملا انہوں نے مار مار کے کان کا پردہ ہی پھاڑ دیا بے چارے کا۔

بن ماں باپ کے بچوں کیلئے۔

اپنے دوستوں کے ابائوں امائوں کے احوال سنو تو بن ماں باپ کے پیدا ہونے پر شکرانے کے نفل ادا کرنے لگو۔ ان بھائی کو غم کہ انکی کوئی ماں نہیں جسے شدید ذہنی دبائو ہو اور وہ خود کشئ کی کوششیں کرتی ہو بیٹے کا کام بس سارا دن ماں کو اسی سے بچانا ہو، یا انکو ایسی اماں چاہیئے تھیں جو بیٹے کو کولہو کا بیل بنائے اس سے محنت مزدورئ کرواکر ٹھاٹ سے گھر بیٹھے یا ایسی اماں چاہیئے تھیں کہ جو ابا کو چھوڑ کر چلی جاتیں بیٹے کی پروا کیئے بنا یا ایسے ابا چاہیئے تھے جو سیاست میں ہوتے دنیا کا ہر غلط کام دھڑلے سے کرتے بیٹے کو ڈپٹ کر لگامیں کھینچ کر رکھتے یا شرابی ابا چاہیئے تھے جو صبح شام چھتر مار مار کر ادھ موا کرکے رکھتے یا ایسے والدین چاہیئے تھے جو سگے بیٹے کو نفسیاتئ مریض ہی بنا چھوڑتے۔ اس ڈرامے میں جیسے والدین ان بھائئ کو شکرانہ ادا کرنا چاہیئے تھا کہ والدین ہیں ہی نہیں۔

بدنام بھیا کیلئے۔

ہر غلط کام ان سے منسوب ہو جاتا تھا۔ مہد سے لحد تک الزام ہی الزام ان پر لگتے رہے۔ انہوں نے ایک ایک الزام کو سچ بنایا سلام ہے بھیا پر۔

نفسیاتئ بھیا کیلئے۔

سب سے بہتر زندگئ انکی ہی ہے۔ کھانے پینے کو وقت پر مل رہا سب اچھا اسپتال سکون ماحول نہ برے والدین نہ برا بھائی لیکن ان بھائئ کے بھی رونے نہیں مکتے۔ انہوں نے سب سے اچھا کام کیا خود کو دوست بنایا اپنے ساتھ خوش رہے۔

سوتیلے بھائیوں کیلئے

اپنے سوتیلے بھائی کو اتنا نہ زچ کرو کہ وہ زچ ہو کر مقابلے پر اتر آئے۔ یہ بھیا جتنے سکھ چین سے زلیل کرتے تھے انکی شخصیت میں آئی تبدیلی بالکل نہ بھائی۔ یہ چیختے چنگھاڑتےہی اچھے لگتے۔ ویسے سوتیلے بھائی کام آتے بھئ ہیں سر پھٹوانے کے۔ سو انکو تھوڑا سا مارجن دے دیا کرو

ذاتی رائے۔

زندگی سے خوش ہو خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہے دنیا سے کوئی گلہ نہیں تو یہ ڈرامہ دیکھو۔ دنیا سے نفرت نہ ہو جائے تو پھر کہنا۔ جوانی میں پریشانیاں ہیں تو مر جائو۔یہی حل ہے۔ دل بھر کر بے چارگی نفرت دکھ اور پریشانیوں سے گھرا ہوا ڈرامہ دیکھ کر مجھے خود رات کو سوتے وقت مرنے کا دل کرتا رہا۔ پھر میں سو مر ہی گئ۔ نیند آدھی موت ہی ہوتی ہے یہی عقیدہ ہم پاکستانیوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے ورنہ سچ پوچھو ان ساتوں سے ذیادہ مشکل کتے والی زندگئ یہاں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہے لیکن ہم خود کشی کرنے سمندر کنارے نہیں جاتے بستر پر گر کر سو مرجاتے۔ اب دیکھو نا سمندر کراچئ یا گوادر میں ہے وہاں تک جانے کے پیسے ہوں باقی پاکستان کے پاس تو مریں ہی کیوں؟ بستر سب کے پاس ہوتا سو جاتے اٹھتے تو دوبارہ مرنے کے خیالات آنے تک دوبارہ نیند کا غلبی طاری ہوجاتا یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا۔

خیر ڈرامے کی ڈبنگ کچھ عجیب ہے کچھ چیزیں سمجھ نہ آئیں۔ ایک تو ڈائری والا قصہ، بھئ اس ڈائری میں ڈرامے کا پلاٹ کیوں اور کس نے لکھا یہ بھوت والا ڈرامہ تو تھا نہیں پھر؟

ایک ہی اماں نے خودکشی کی تو آگ لگانے کیلیئے کون آیا گیا؟ اور خودکشی ہی کی اماں نے تو آگ لگائی ہی کیونکر گئ تھی؟ آگ والا قصہ بارہ اقساط میں وقفے وقفے سے کیوں دہرایا؟ امیر ہیرو کے ابا فون کیوں نہیں کرتے تھے؟ کیسٹ کا ایسا انوکھا استعمال کیوں کیا گیا؟ جب ٹیپ ریکارڈر موجود تھے آنٹی آواز ریکارڈ کیوں نہیں کرتی تھیں؟ آنٹئ کو پریشان کن سوچوں سے شادی کے اٹھارہ سال تک نجات کیوں نہ مل سکی ؟ اگر پرنسپل انکل ہی خبیث تھے تو بے چارے امیر محبوب اور غریب شوہر کا کیا قصور تھا؟ کون ان سب کو آگ لگانے کیلئے اکساتا رہا؟ کسے دلچسپی تھی ان ساتوں کو آگ والی جگہ بھجوانے میں؟ کسی اور نے میری طرح اس ڈرامے میں سر کھپایا ہو اور ان سوالوں کے جواب حاصل کیئے ہوں تو مجھے ۔۔۔۔ بتانے کی ضرورت نہیں۔پہلے ہی دماغ پریشان ہوگیا ہے۔ اب مجھے ٹوئنکلینگ واٹر میلن جیسے دو درج ڈرامے دیکھ کر ہی دنیا میں دوبارہ دلچسپی محسوس ہونی فی الحال تو نئے سارے ڈرامے بکواس چل ریے۔

کیونکہ لڑکے سب پیارے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: