Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

کم سن یانگ انٹرویو دیتے رو پڑیں۔
کم سن یانگ کو آپ نام سے نہ سہی شکل سے تو جانتے ہوں گے اور یہ بھی مانتے ہونگے کہ یہ بے حد اچھی اداکارہ ہے۔ کریش لینڈنگ آن یو میں شمالی کورین بنی ہوئی ہے تو ریپلائی 1988 میں 88 کے دور کی بیوہ مزید بھی کئی ڈرامے کیئے ہر ڈرامے میں جس طرح بولنے کا انداز الگ ہے لباس کا انتخاب بھی الگ سا ہے بالوں کا انداز بھی کردار کے مطابق بدلتا رہا ہے مگر اتنی اچھی اداکارہ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں فرط جزبات سے رو پڑی آخر کیوں؟
کم سن یانگ کو اداکاری کا بے حد شوق ہے ۔ انکا کہنا ہے وہ اپنے ہر منظر میں اپنے آپ کو دیکھ کر خوش ہوتی ہیں افسوس کے ساتھ وہ ایک جیسے کرداروں کی بھرمار کا شکار ہو چکی ہیں۔ انکو بڑی عمر کی خاتون کا ہی کردار دیا جاتا ہےجس میں انکے گنے چنے مناظرہوتے ہیں جسکی وجہ سے اداکاری کے جوہر دکھانے کا کم ترین موقع ملتا ہے۔ ۔ وین کیمیلا بلومز اور کریشن لینڈنگ کے بعد سے تو مستقل ہی انکو بڑی عمر کی خاتون کا کردار ملتا ہے جبکہ وہ اہم کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ انکو بڑی عمر کا کردار ملنے پر کوئی شکوہ نہیں مگر ان کرداروں کا اتنا غیر اہم ہونا کہانی کا بس ایک جزوی حصہ ہونا انکو دکھی کر دیتا ہے۔
اس بات سے تو آپ سب متفق ہوں گے کہ کوریا بھئ خواتین کیلئے برا ترین معاشرہ ہے۔ آپکو وہاں بھی چالیس پینتالیس تک کے مرد لیڈ کردار کرتے اور ہیروئنوں کے ساتھ جوڑی بناتے نظر آتے ہیں مگر وہ تمام ہیروئنیں جو اب اس عمر تک پہنچ گئ ہیں انکو مشکل سے ہی کوئی اہم یا مختلف کردار ملتا ہے۔ کم تائی ہی سے لیکر جنگ نارا تک یہ سب حسین ترین لڑکیاں اب ایسے کرداروں میں نظر آتی ہیں جن میں یہ گھر میں کام کرنے والی خاتون ہیں یا کئی بچوں کی ماں۔ جبکہ لی دونگ ووک ابھی بھی ٹیل آف نائن ٹیلز میں بھر پور ہیرو کے کردار میں نظر آتے ہیں۔
بڑی عمر کے ہیروئوں کیلئے اگر بہت سارے مختلف کردار لکھے جاتے ہیں تو ہیروئینوں سے کیا دشمنی ہے؟ اور جنہوں نے کچھ دیر سے اداکاری کا شعبہ اختیار کیا جیسے کہ کم سن یانگ انکو تو بالکل ہی پرانی ہیروئنوں کی طرح الگ کردار ملنا تو شاذ ہے انکو بس اماں بنا چھوڑا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: