Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

زرد پتوں کا بن
کشف فائونڈیشن کا ڈرامہ ہے اور اسکا انتظار تھا۔چونکہ اس سے پہلے بھی جتنے کشف فائونڈیشن نے ڈرامے بنائے اڈاری وغیرہ سب خاص موضوع پر بہت اچھے اسکرپٹ کے ساتھ لکھے گئے تھے مشہور بھی ہوئے لہذا مجھے اسکی کم از کم ایک قسط تو دیکھنی تھی۔ اور یہ قسط دیکھنے کے بعد اگلی قسط دیکھنے کا بھی ارادہ ہے۔ کیوں ؟ بتاتی ہوں
کہانی شروع ہوتی ہے ایک چھوٹے سے گائوں سے جہاں مولوی لائوڈ اسپیکر پر اعلان کر کرکے پورے گائوں سے اپنی مسجد کی جلی ہوئی موٹر کو ٹھیک کروانے کیلئے چندا مانگ رہا ہے۔ دس بیس روپے دے کر لوگ جا رہے جبکہ دوسری جانب دو مشہور مرغے لڑانے والے اپنے مرغوں کی لڑائی کا انتظام کر رہے ہیں۔ شرطوں پر لاکھوں روپیہ لگ رہا ہے۔ ایک مرغے لڑانے والے آدمی کی بیٹی ہے سجل جو کہ نامعلوم مدت سے میٹرک کا امتحان دے دے کر ناکام ہو رہی ہے۔ اب اپنے بھتیجے کے ہمراہ میٹرک کا امتحان دے کر نتیجے کا انتظار کر رہی ہے۔ گائوں میں ایک بہبود آبادی والوں کا مرکز ہے جہاں بڑے افسران کارکردگی کا جائزہ لینے آرہے ہیں۔ اس محکمے کے دو محبتی افسران میاں بیوی گائوں والوں کو ضیافت کا لالچ دے کر بلا رہے کہ بہبود آباد کے مرکز چلے آئیں مگر گائوں والوں کو دلچسپی مرغوں کی لڑائئ میں ہے۔
ایک شہری کہانی بھی ہے۔ ہیرو اور ایک لڑکی ڈاکٹر ہیں۔ لڑکی نے ایک آپریشن میں سینئر ڈاکٹر کی مدد کی تھی جس میں خاتون جاں بحق ہو گئیں۔ اہل خانہ اس لڑکی کو مارنے اسپتال پہنچ گئے ہیرو نے سمجھا بجھا کر معاملہ سنبھالنا چاہا مگر انتظامیہ نے پولیس بلائی جیل بھیج دیا اہل خانہ کو۔ اب مظلوم شوہر ہیرو کے پیچھے لگ گیا ہے۔
دلچسپ الگ کہانی۔ اوپر سے سجل علی نے حسب معمول ادکاری کے خوب جوہر دکھائے ہیں۔ کہانی مکمل طور پر گائوں کے ماحول جہالت اور خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کے گرد گھوم رہی ہے۔ لیکن الگ کہانی ہے دلچسپ انداز بیاں ہے سو دیکھنا بنتا ہے۔
Desi kimchi ratings: 4/5
یار ہیرو سے مجھے کوئی بغض ہے اچھا ہی نہیں لگتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: