Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

چار مختلف مگر پر اثر پاکستانی ڈرامہ جو آپکو ضرور دیکھنے چاہیئیں

قصہ مہر بانو کا

مہربانو ایک اٹھائیس تیس سال کی سمجھدار سنجیدہ لڑکی ہے جو اپنے بوڑھے والد اور نو عمر بھانجی کے ساتھ ایک بڑے سے گھر میں تنہا رہتی ہے۔ بوڑھے والد سنکی ہیں اور پچھتاوئوں بھری زندگی گزار رہے ہیں جس میں اکلوتے بیٹے کا لا پتہ ہونا اسکی اولاد کی کوئی خیر خبر نہ ہونا اور اسی بیٹے کے سالے سے مہربانو کا نکاح کر دینا جو بیٹے اور بہو کے خراب تعلقات کے باعث کھٹائی میں پڑچکا ہے۔ اور دس سال ہونے کو آگئے مگر بیٹئ کے سسرال والے اسکی رخصتی نہیں کرا رہے ۔ انکے پڑوس میں بستے ہیں انکے دور پرے کے رشتے دار جن کا اکلوتا بیٹا مہران ،مہربانو کوپسند کرتا ہے۔ ایکدن اچانک مہربانو کا شوہر اسے لینے آجاتا ہے اور کہانی ایک دلچسپ اور نیا موڑ اختیار کرتی ہے۔ مہربانو باکردار سنجیدہ اور سمجھدار لڑکی ہے تو اسکا شوہر ایک نمبر کا مطلبی موقع پرست اور لالچئ انسان ہے۔ کیا دونوں کی نبھ سکے گی؟ 

کہانی کئی سال قبل خواتین ڈایجسٹ میں چھپی تھی اور ایک ناول کے حساب سے کہانی میں بس چیدہ چیدہ کردار تھے لیکن ڈرامائی تشکلیل میں مصنفہ فاخرہ جبیں نے بہت خوبی سے نئے کرداروں کا نا صرف اضافہ کیا ہے بلکہ کردار نگاری میں کمال کر دیا ہے۔ سب بہت برے نہیں ہیں اور سب بہت اچھے بھئ نہیں۔ ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اسکے برجستہ اور نہایت پراثر دل چھولینے والے مکالمے ہیں۔ اتنی خوبصورت اردو بہت عرصے بعد سننے کو ملی۔ ورنہ آجکل کے پاکستانی ڈراموں میں بےتکے جملے اور لمبے لمبے مناظر بیزار کردیتے ہیں وہیں اس ڈرامے کی دھیمی سادی کہانی اور پر اثر مکالمے دل چھو لیتے ہیں۔ نیز ڈرامے کو دیکھتے احساس ہوتا ہے مہر بانو کی روزمرہ زندگی دیکھ رہے ہیں ہم۔کئی مناظر میں کرداروں کا ایک بھی مکالمہ نہیں ہے مگر وہ مناظر کا حصہ ہیں جس سے بہت اچھا تاثر پڑتا ہے ضروری نہیں کوئی کردار موجود ہو تو اسکا بے مقصد مکالمہ بھی ہو۔ فاخرہ نے کمال کا لکھا ہے اور یہ ڈرامہ یقینا باذوق افراد کو ضرور پسند آئے گا

نصیب

ہم ٹی وی سے شروع ہونے والا یہ نیا سوپ بہت مضبوط اسکرپٹ کا ڈرامہ ہے۔کہانی تین بچوں کی ہے دو بیٹیاں اور ایک اکلوتا بیٹا۔ باپ بیٹے کی خواہش میں پاگل ہوا تھا کہ بیوی جو بیٹے کی پیدائش کے دوران چل بسی اسکا غم اس بیٹے کی پیدائش کی خوشی پر حاوی رہا۔ دونوں بیٹیوں کے ساتھ اسکا سلوک ظالمانہ ہے بڑی بیٹی باپ کے رویے کے باعث اپنے بھائی اور باپ دونوں سے نفرت کرتی ہے جبکہ اس ڈرامے میں متحمل مزاج معاملہ فہم دادی ان بچوں کی پرورش کا ذمہ اٹھائے بیٹے کو اپنا رویہ بدلنے پر ٹوکتی بھی نظر آتئ ہیں۔ بچیوں کی ایک خالہ ہیں جنکا بیٹا بھی اس گھر کے معاملات میں اہم عنصر نظر آتا ہے۔ ۔بہت ہی بار اس موضوع پر ڈرامے بن چکے ہیں مگر اس ڈرامے میں مکالمے بچوں کی اداکاری کمال کی ہے کہانی میں منطقی انداز میں رویوں کا دو رخا پن دکھایا گیا ہے یوں لگتا ہے کہانی ان بچوں کی جوانی تک جائے گی۔ سات بجے کے سوپ عموما مخصوص ہی موضوعات پر روشنی ڈالتے دکھائی دیتے ہیں بس فرق صرف اچھی اداکاری اور مکالموں سے پڑتا ہے سو اس ڈرامے کی اس فہرست میں ان دو وجوہات کی بنا پر جگہ بن گئ

محبت داغ کی صورت

 جیو ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ محبت داغ کی صورت بھی آج کل ایک بہتر ڈرامہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ ڈرامہ بھی ایک ناول پر مبنی ہے۔ اسکی کہانی یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک جوڑے کی ہے جو پسند سے شادی کرلیتے ہیں مگر ادھوری ۔مطلب نکاح تو گھر والے کروادیتے ہیں مگر رخصتی نہیں ہوتی ۔ رخصتی نہ ہونے اور شرعی رشتے میں بندھنے کے بعد روز کا یونیورسٹی میں ملنا ملانا انکو معاشرے کی قیود سے بے فکر کردیتا ہے اور دونوں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔اس غلطی نے کیسے دو خاندانوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیا اور جائز کام بھی معاشرے کی روایات کی رو سے ناجائز قرار پاتا ہے  نوجوان جوڑا اپنی اس غلطی کا تاوان ادا کرتا ہے اور اپنی ہی اولاد کو انہیں چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔ انکی زندگی کے اتار چڑھائو اور معاشرے کی ان رسوم و روایات جنکا اسلام سے تعلق نہیں مگر وہ پھر بھی عام زندگئ میں کتنی اثرانداز ہوتئ ہیں بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ نیلم منیر اور سمیع خان کی اداکاری بھی کمال ہے۔ لوگوں نے سمیع خان کے یونیورسٹی کے طالب علم دکھائے جانے پر کافی اعتراض کیا مگر چونکہ سمیع خان خوش شکل ہیں اور اپنی عمر سے کم نظر آتے ہیں ان پر یہ اعتراض بے جا ہی لگا۔ دوئم کہانی یونیورسٹی کے بعد انکی عملی زندگی پر محیط ہے سو اس بات کو اتنا مسلئہ بنانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی ہے۔

دوبارہ

حدیقہ کیانی اور بلال عباس خان کا نیا ڈرامہ دوبارہ اپنی پہلی قسط سے ہی دلچسپی کا عنصر قائم رکھے ہے۔کہانی ہے ایک لاابالی سے لڑکے کی جسکے والدین علیحدہ ہو کر الگ اکگ گھر بسا چکے ہیں۔ ماں اور سوتیلے باپ کےپیسوں سے تعلیم کا خرچ اٹھوانے کے بعد اب بے روزگار ہے اور انکے گھر سے پیسے چراکر اپنی گرل فرینڈ کو ڈنر کر واتا ہے۔ جبکہ سوتیلی ماں اس سے شدید نفرت کرتئ ہے انہی حرکتوں کی بنا پر دوسرئ جانب حدیقہ کیانی کا شوہر اس سے عمر میں کہیں بڑا تھا اور اسکے انتقال کے منظر سے ہی حدیقہ کی اس ڈرامے میں رونمائی ہوتی ہے۔ بیوہ ہوجانے پر لوگوں کا رویہ اوپر سے شوہرکی سب جائداد اسکے نام ہوچکی ہے ایک بیٹا ایک بیٹی ہے۔ بیٹی شادی شدہ ہے مگر قسمت سے داماد ذمہ دار ہے۔ایک نند آئی ہوئی ہیں جو اسکو بات بے بات ٹوکتی ہیں جبکہ حدیقہ کیانی اب خود کو آزاد محسوس کر رہی ہے۔ بچپن میں شادی کے بعد شوہر نے جس طرح اسکے اوپر حاوی ہو کر اسکے ایک ایک شوق اور دلچسپی کو دبایا ہے وہ اب اس عمر میں اس ایک ایک شوق کو جینا چاہتی ہے۔ بلال عباس اور حدیقہ کی اتفاقیہ ملاقات ہوچکی ہے دونوں اپنی اپنی جگہ مسلئوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بڑی عمر کی عورت کم عمر لڑکا جوڑے کے طور پر ہمارے معاشرے میں خاصے ناپسند کیئے جاتے ہیں اور جس طرح کا لا ابالی لڑکا دکھایا ہے یقینا حدیقہ کیانی جو امیر بیوہ ہے اس کو محبت میں دوبارہ دھوکا ہی ملنے والا ہے۔ کہانی میں سوتیلی بہنیں اور ہیرو کی گرل فرینڈ کا کردار سب اپنی اپنی جگہ کہانی کا رخ موڑ رہے ہیں فی الحال تو دلچسپ ہے سو کہہ سکتے ہیں کچھ نیا دیکھنے کو ملنے والا ہے۔۔ 

جہاں ایک جیسے گھسے پٹے موضوعات پر مبنی ڈرامے ہمیں بار بار دیکھنے کو مل رہے ہیں وہاں مختلف کہانی اور دلچسپ مکالموں پر مبنی یہ ڈرامے مشکل سے دیکھنے کو مل رہے ہیں سو ہمیں ضرور اپنی رائے دیں کیا پسند آئے آپکو ہمارے منتخب کیئے گئے ڈرامے؟ 

“>> » Home » Pakistani dramas Reviews » FOUR PAKISTANI DRAMAS THAT YOU MUST WATCH DESI KIMCHI RECOMMENDATION

Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

New  Urdu Web Travel  Novel  : Salam Korea Featuring Seoul Korea.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: