Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

here is my plan

انہی دنوں میں جب میں نے دو عدد چلتے ڈرامے دیکھنے شروع کردیئے Phantom school اور Revenge of others تو اگلی قسطوں کیلئے ہفتے بھر کے تکلیف دہ انتظار میں وقت کاٹنے کو ڈرامے ڈھونڈتے یہ ڈرامہ وکی پر ملا۔ اب چونکہ وکی پاس ہے میرے پاس آہم آہم تو میں بکواس بورنگ ڈرامے بھی دیکھ ڈالتی ہوں کہ مفت میں بنا اشتہار کم ڈیٹا خرچ پر دیکھنے کو ملے تو کیا برا۔ یہ بھی دیکھنا شروع کیا اب یہ مت سمجھنا اسکو بھی بکواس کہہ رہی ہوں۔ کہہ تو رہی ہوں خیر میں کہانی پر آتے ہیں۔کہانی ہے ایک عدد 19 سالہ لڑکی کی جس نے پہلے پانچ سات میں بھاگ بھاگ کے سر میں درد کردیا کیا یہ کہ موصوفہ اسکول یونیفارم میں لوگوں سے ٹکراتی ہیں اور جیب سے موبائل نکال لیتی ہیں۔ بقول انکے پکی چورنی ہیں یہ مگر پہلے طویل منظر میں ایک موٹے آدمی کو ناصرف چوری کا پتہ لگا بلکہ اسکے ساتھ دو کلومیٹر بھاگتا آیا۔ اسکے مقابلے میں دبلی کم عمر پھرتیلی ہونے کے باوجود یہ اسکو چکمہ نہ دے سکیں اور سب وے میٹرو میں باتھ روم میں گھس گئیں۔ بندہ اسی کلو وزن کے ساتھ بھاگ بھاگ کے پیچھے نہ صرف آیا بلکہ سیکیورٹی بھی بلا لایا اب خود تو خواتین کے ٹوائلٹ میں نہیں آسکتا تھا۔خیر یہاں ہیں اسکی باجی جو موبائل چوری کرواتی ہیں اس سے او رپیسے دیتی ہیں دونوں نے کپڑے بدلے خوشی خوشی گھر کو چل دیں۔مگر نہیں پولیس اتنی چاق و چوبند ہے کوریا کئ کہ اس کو ڈھونڈا اسکے گھر پہنچ گئے گھر میں اماں نے غیر قانونی جوا اڈہ کھول رکھا تھا پکڑی گئیں۔ مزے کہ بات یہ لڑکی گھر چھوڑ کر بھاگ چکی ہے اور ایک نئی جگہ کرائے پر کمرہ لیکر رہ رہی ہے۔ اماں کو نہیں پتہ کہاں ہے وہ مگر پولیس میں پکڑی جا چکی ہیں وہ بیٹی کی وجہ سے۔ اب بیٹی کا حال سنو۔ اپنے نئے گھر جاتے میرے پالو ہیرو کو ولن ہیرو ( اب وہ بھئ پیارا ہے کیا کروں اسکو ولن کہنا کافی نہ لگا) کے ہاتھوں پٹ کر خونم خون ہوتے دیکھتی ہیں مگر نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتئ ہیں۔ اب اپنے گھر آکر گھورتئ ہیں سامنے والے گھر کو جہاں انکے ابا رہتے ہیں کلم کلے۔ ( اکیلے)۔ کیوں اسکی اماں کو چھوڑا اسکی اماں کیوجہ سے اس نے اسکول چھوڑ کر چوری شروع کی اب ابا سے بدلہ لینے کیلئے گھر چھوڑ کر انکی پڑوسن بن کے انکی زندگی اجیرن کرنے کا پلان بنا رہی ہے۔ مگر یہ کیا ۔سامنے ہے پالو ہیرو اسکے ابا کا سہارا لیکر اتر رہا ہے گاڑی سے ہاتھ پر پلستر ایک بوڑھی دادی ایک نوجوان خاتون اسکے لیئے پریشان یہ سب دیکھ کر یہ خود چیں بہ چیں یہ کیا بھائی ہے اسکا؟ دھچکا لگا۔ فورا کن سوئیاں لینے پہنچئ تفصیل جانی پتہ چلا بھائی نہیں ہے۔تھائینیئے۔ تو پھر کیا کرنا چاہیے اسے؟ جی وہی کیا اس نے فورا اسکو دوستی کی پیشکش کی جسے اس نے اپنے پٹنے کو رپورٹ نہ کرنے پر اس سے خفا ہوکر ٹھکرا دی۔ یہ لڑکی بالکل درست رخ پر سوچتی ہے۔ اس نے فورا اسکو اپنا لڑکا دوست بنانے کی پیشکش کی۔ مزے کا لگا نا اب آگے خود دیکھنا۔کہانی سے سبق ملتے ہیں۔ اماں کیلئے۔ بیٹی پر نظر رکھو۔ کڑی خاص کر اگر خود کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہوں تو۔ دیکھوچوری چکارئ تو نہیں کرنے لگی؟ پتہ چلے پولیس اسے لینے آئے اور آپکو خود لینے کے دینے پڑ جائیں۔ بیٹی کی یادداشت کا بروقت علاج بھی اتنا ہی ضرورئ ہے۔باجی کیلیئے۔ٹین ایجرز کے مزاج بدلتے رہتے ہیں سو ان پر تکیہ کرکے موبائل فارمیٹ کرکے بیچنے کا کاروبار شروع نہ کریں۔ یہ نہ ہو انکے خانگی مسائل میں الجھ کر فاقوں کی نوبت آئے۔ پیارے لڑکوں کیلئے۔ بھئ لڑنا بھڑنا سیکھو۔ پٹ پٹا کر آنا بری بات ہے۔ اوپر سے مکے منہ پر کھا کر منہ سوجا لیتے ہیں سب آپکا چہرہ ہی دیکھتے ہیں کیوں بگاڑا جائے؟ کمینے لڑکوں کیلئے۔ اپنے سے پیارے لڑکوں کی ناک پھوڑ دو۔ فائدہ کوئی نہ ہوگا ویسے کیونکہ اسکی گرل فرینڈ نے اسی کی گرل فرینڈ رہنا ہے پھر بھی پیٹ پاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ بس بازو وازو توڑتے احتیاط کرو کوئی سپاری دیکر تمہارے بھی بازو نہ توڑ دے۔کیئر ٹیکر آنٹی کیلئے۔ اگر سنگل مدر ہیں تو کسی بڈھی خاتون کو جنہیں بھولنے کی بیماری ہو انکے گھر ملازمت کرکے اپنی نک چڑھی غصہ ور بیٹی سے نجات لو اور بڈھی خاتون کے پڑوس میں کسی اچھے کمائو پوت مرد پر ڈورے ڈالو۔ بڈھی آنٹی تو بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہیں ہی کہاں سے ںظر رکھیں گی۔ بڈھی آنٹی کیلئے۔ سب بھول جائیں زندگی آسان ہے۔ایک تو آپ دل بھر کر سب لڑکیوں کو کتیا کہہ سکتی ہیں او روہ جواب میں لحاظ کے مارے ہنسی ہی جائیں گی دوسرا سادگی معصومیت کا بہانہ کرکے کبھی بھی کہیں بھی کسی کے ساتھ جا کر زبردستی اسکے کھانے کی حصہ دار بن جائیں گی۔ اور اگلی نے کتیا کہلانے پر ہنسنا ہی ہے۔ ہیرو کیلیئے۔معصوم بنو مگر اتنے بھئ نہیں کہ ایک بندی گلے پڑے تو اسکو گلے ہی لگا لو۔ مطلب عقل کے اندھے کیا سمجھ رہے تھے خود کو پرسن چارمنگ بھی ہمیں کورین اوپا اتنے پیارے لگتے کورین اوپیوں کو تو سب ایک جیسے ہی میسر ہیں پھر کیونکر کوئی اوپی دل و جان سے مر مٹے گی پٹتا دیکھ کر عقل کے ناخن لو۔ شکل دیکھ کر پرپوز کرنے والی کے بارے میں جتنے درست اندازے لگائے انہوں نے اسکو ندا یاسر کو اپنے شو میں بلانا چاہیئے مہربان علی والے شو سے ذیادہ ریٹنگ لے جائے گا یہ لڑکا فیس ریڈنگ کرکے۔ہیروئن کیلئے۔ بھئی اگر تمہارے دانت ٹیڑھے ہیں اور بال بھورے گھنگھریالے ہیں تو پانچ سال انتظار کرو جب تم بائیس سال کی ہو جائوگی تو خودبخود دانت ٹھیک بال سیدھے کالے ہو جائیں گے۔ سچئ اسکول 2017 کی جھڑوس لڑکی اس ڈرامے میں کیا روپ بدل کر آئی ہے۔ ویسے سچی بات اس پر گھنگھریالے بال اور معصومیت اچھی لگتی تھی۔ اب اتنی پیاری نہ لگی خیر اس ڈرامے سے ہیروئن سے منصوبے ناکام کرنے کے سو طریقے سیکھے جاسکتے۔ ماشااللہ سے ہر منصوبہ ناکام ہوا انکا۔مگر سبق اچھے دے گئ پہلا خوبصورت لڑکا جسے پٹتا دیکھو اسکو زخمی حالت میں جا کر پرپوز کر دو۔ بے چارہ ٹھرک سے مجبور فورا محبت میں مبتلا ہو جائے گا پھر پورا ڈرامہ اپنے کام کروائو۔ کبھی چومو کبھی دھکا دے جائو۔ سب سے بڑھ کر پٹنے کا عادی ہوگا تو ذیادہ نخرے والا نہیں ہوگا۔ ویسے اس نے آخری منظر میں جو بازو پکڑ کر ہیروئن کو کھینچا تھا اس طرح پہلے منظر میں ولن کو دھکا دیا ہوتا تو بازو نہ ٹوٹتا۔ Spolier Alert اگر ڈرامہ دیکھنے کا ارادہ ہو تو یہ والا پیراگراف نہ پڑھیں نیچے والا پڑھنے لگیں۔دوست کیلیئے۔دوست مر جائے تو اسکی بیوی بچی سے قطع تعلق کرلیں۔کوشش کیجئے دوست کو بچاتے نہ مریں ۔خاص کر اگر آپ شادی شدہ ایک بچی کے باپ ہوں یہ نہ ہو آپکی بیوی بچی سمیت آپکے پاس گاڑی میں چارکول جلا کر آنے کا ارادہ باندھ لے اور دوست خود تو چالیس کا چھیل چھبیلا بن کے شادی کھڑکانے پہنچ جائے آپ بس آسمان سے دکھی جھانکتے دیکھتے رہیں کہ بیٹی نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر چوری چکاری شروع کردی۔ یہ ابا زندہ رہتے تو مسلئے ختم تھے سارے۔ ذاتی رائے۔ بھئ چار قسطوں میں کونسی داستان امیر حمزہ دکھاتے بس اتنی سی معصومانہ کہانی تھی اور یقین جانو چوتھی قسط کی ضرورت نہیں تھی مگر وہی تفصیل سے کہانی کو انجام دینے کا شوق انہوں نے لمبا کھینچا۔ کھینچ کھینچ کر لمبا کیا۔ ہیروئن کی ماں ایڈمز فیملی کی بیٹی جیسی ذیادہ لگی جانے کیوں۔ خیر دیکھ لو تم سب اور مجھے بتائو اب میں کونسا دیکھوں؟؟؟ فینٹم اسکول کی کل قسط آئے گی ریونج آف ادرز کی جانے کب اف میں بور۔۔۔ Desi kimchi ratings ⅘ اچھا ٹائم پاس ہے یہ سادہ سا معصوم سا ڈرامہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: