Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

Who Are You: School 2015

2015 ‧ Drama ‧ 1 season

love alarm

لو الارم دیکھنےسے قبل میں کم سوہیون کو بڑی معصوم بھولی بھالی سی بچی نما لڑکی سمجھتی تھی پھر لو الارم دیکھا نظریہ بدلا مگر جب اسکول 2015 دیکھا تو پتہ چلا موصوفہ تو ہمیشہ سے پھرکی گھنی میسنی چالاک اور سازشی ہیں۔
اسکول 2015 میں نے شائد اس سال دیکھا۔ ایک دو نشستوں میں ہی ختم کیا۔ میری ویسے ایک دن میں پانچ قسطیں دیکھنے پر ہی بس ہو جاتی ہے اسکو تین یا چار دن میں ختم کیا اورپتہ ہے کیوں ؟ یہ دیکھنے کہ یہ مری کہ نہیں۔ مگر مری نہیں مار کھانے والی حرکتیں کیں بس۔
کہانی ہے ایک بلی کی۔ ہم اردو میں بلی Bully کو کیا کہتے ؟ ہم ویسے اچھے لوگ ہوا کرتے تھے دوسروں کا مزاق اڑانے پر ہی استادوں سے خوب لمبے لمبے بھاشن اور ڈانٹ سننے کو مل جاتی تھی۔ چڑانا مزاق اڑانا یا مزاق اڑاتے مار پیٹ پر اتر آنا کورین ڈراموں میں ہی دیکھا یا اب نئی پود کچھ نام روشن کر رہی ہم پاکستانیوں کا ورنہ سچی بات ہے ہم تمیز دار لوگ ہیں۔ بلکہ تھے کہنا بہتر رہے گا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک لڑکی ہے یتیم خانے میں رہتی ہے مگر اسکی اسکول میں لڑکیاں کتے والی کرتی ہیں۔ اس پر میدہ انڈے پھوڑتی ہیں مارتی کوٹتی ہیں۔ وہ ایسی شریف ہیں بظاہر سب سہتی ہیں خاموشی سے۔وہیں گھنگھریالے بالوں والی اسی شکل کی موصوفہ پردے پر نمودار ہوتی ہیں اور انکا کردار بالکل الٹ سا ہے نہایت ہی اکھڑ کھڑ پینچ ٹائپ پیسے والی ماں کی بیٹی ہیں۔ایک عدد لڑکا بھی پٹا رکھا ہے حسین سا۔ خیر سیر کرنے جاتی ہیں اسکول کے ساتھ ایک گائوں میں وہاں سے غائب ہو جاتی ہیں آخری بار اسی حسین لڑکے کے ساتھ دیکھی گئیں۔ اسی دن ہوا یوں بھی کہ دوسری معصوم شریف والی باجی خود کشی کر بیٹھیں زندگی سے تنگ آکر۔ مرتے مرتے اپنی شکل ہی کو خود کو بچاتے دیکھا۔ ہوش آیا تو اسپتال میں تھیں۔ اب کہانی یوں ہے کہ سب بھول بھال چکی ہیں۔ انکی ایک عدد اماں انکا خیال رکھ رہی ہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئیں۔ یہاں ملا ایک نہایت پیارا حسین شرارتی لڑکا الٹا لٹکتا ہوا انکی اسپتال کی کھڑکی سے جھانک کر پہچانتے ہوئے آنیانگ کہتا۔ (یوک سنگ جے)


موصوفہ حیران پریشان یاد داشت کے پردے ایکدم صاف اپنے اسکول گئیں ہمدرد نرم مزاج سادہ سی لڑکی بن کر جسے دیکھ کر اپنی ہی سہیلیاں حیران کہ تبدیلی کیوں کر۔ اور خوش یوک سنگ جے جس کی نہایت دکھی الگ کہانی اور اسکے ساتھ اکھڑ والی کا رویہ بھی اکھڑ تھا یہ والی معصوم سی اسکے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں وہ انکا اچھا والا دوست بن گیا۔ سب ٹھیک اچانک یادداشت واپس آئی۔ اماں کو بتایا کہ میں تو کوئی اور ہوں واپس یتیم خانے اماں سمجھدار کہا ایک تو مر گئ دوسری پلی پلائی پال لیتی ہوں۔ قصہ ختم۔ اب یہ نئے اسکول میں بہن کی زندگی جی رہی ہیں۔ جی بہن۔ وہ ہم شکل انکی بہن ہی ہے جڑواں جسے یہ چوچی بنتے انی انی کہیں گی۔


اب نئے اسکول میں آگئیں وہی پرانے اسکول والی کمینی ہم جماعت جو اسکا خوب مزاق اڑاتی اور درگت بناتی تھی۔ اس نے ٹھانی کہ اسکا راز کھولے گی جس دن کھولنا چاہا اس دن گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہونے والی اصل انی واپس آگئیں۔
کہانی دیکھ کر لکھاری کو ایک دو کان کے نیچے لگانے کو کرتاہے۔ ایسی سازشیں یہ بالشت بھر کے چھٹنکے چھٹنکیاں کرتے پھرتے ہیں کیا کمولیکا کرتئ ہوگی کیا دکھ بھری تلسی کی داستان رہی ہوگی جو ان دو بہنوں کی رہی۔ اور مظلوم ترین یوک سنجے جب دو لڑکیاں تھیں دو لڑکے تھے الگ الگ جوڑے بناتے نا جی اسے لنڈورا چھوڑ دیا۔ کہانی سے بڑے سبق ملتے ہیں۔
سائیڈ ہیروئن جو کہ کم سو ہیون ہی تھئ کیلئے
بھئ نیکی کر دریا میں ڈال یہاں خود کو پہلے دریا میں ڈالا پھر نیکی کی سب الٹا پلٹا۔ بہن کی تلاش جاری رکھی اسکا خیال رکھا سمجھ آیا۔ اسے اپنے ساتھ لانے کی کوئی صورت پیدا کرنے کی بجائے خود اپنی پڑھائی دائو پر لگائی غائب رہیں در در کی ٹھوکریں کھائیں دنیا کیلئے مر گئیں نتیجہ اپنا بوائے فرینڈ کھو دیا اسے بہن لے اڑی۔ مطلب حد ہے۔ اپنا سب کچھ برباد کرنا کوئی اس احمق سے سیکھے۔ آخر میں امریکہ بھاگ گئیں۔ جبکہ واحد پچھتاوا یہ پالا کہ اپنی بہن جیسے حالات سے گزرنے والی اپنی دوست سے دور ہو رہیں اتنا کہ وہ مرگئ پتہ نا چلا۔ او بھئ چیریٹی بیگن ایٹ ہوم سنا تھا مگر یہ کیا کہ بہن کیلئے مرنے کا ناٹک کر لیا دوست کو دو بول تسلی بھی نا سنائے منافق کہیں کی۔
سائیڈ ہیرو کیلئے۔
خبیث لگتے ہو سب کو خبیث بن کر دکھائو مگر نا جی اتنا اچھا لڑکا کے ورلڈ میں نا دیکھا کم از کم کبھی لیڈ رول میں۔ ہمیشہ ایسے بے غرض اچھے دل والے ہیروئن سے محروم رہتے کیونکہ ہیروئن تو ایک نمبر کی چلتر ہوتی ہے فائدہ اٹھانے والی جبھی۔ یہ معصوم اس لڑکی کی ہر طرح مدد کرے گا آگے پیچھے پھرے گا خیال رکھے گا راز رکھے گا اور فرینڈ زون ہو جائے گا ۔ لہذا اگر کوئی لڑکی اچانک رویہ بدلے تو اس سے محتاط رہو۔ یقینا وہ لڑکی وہ لڑکی نہیں کیونکہ لڑکیاں فالتو بھی نفرتیں پالتی ہیں اولاد کی طرح سینچتی ہیں سو ہمیشہ نئی لڑکی پر دل لگائو اپنا دل بچائو۔
ہیرو کیلئے۔
خالص کے ہیرو کچھ نہیں کرنا فالتو کے رعب جھاڑنے حال موصوف کا یہ کہ لڑکی بدل گئ انکو کانوں کان خبر نہ ہوئی مگر محبت اور لڑکی کے دعوے دار یہی ٹھہرے۔ایسے لڑکے ہوتے ہیں جن کو گرلز کالج کے باہر جاکھڑا ہونے کی عادت ہوتی ہے لفٹ لائن ایک آدھ سے ملتی مگر درجنوں لڑکیاں اکٹھے دیکھ کر خوش رہتے۔ انکا زندگی کا ایک مقصد لڑکی بس سانس لیتی ہو یہ محبت میں مبتلا۔ کتنی پیاری ہے سانس بھئ لیتی ہے واہ
ہیروئن کیلئے۔
موقع پرستی کوئی اس سے سیکھے۔ بہن مر گئ۔ اسکا کمرہ اسکی چیزیں اسکی اماں اسکے اسکول کے دوست سب لیتی گئیں۔ بوائے فریںڈ ہی چھوڑ دیتیں جب ایک ہیروسے کہیں ذیادہ مددگار پیارا لڑکا آگے پیچھے پھر رہا مگر نہ جی پٹ گئیں ہیرو سے مگر دوسرے کو بھی کسی لائق نا چھوڑا آخرمیں جب اسکے پاس گئیں تو ایک تھپڑ مارنے کا دل کیا ۔ اس کھوتے جسکو تم میں اور تمہاری بہن میں فرق ہی نہ پتہ لگا ہو اس سے بہتر تو یہ نیا دوست ہی تھا نا جو تمہیں جان کر تم پر مر مٹا تھا؟
ذاتی رائے۔: بھئ دیکھو یہ ڈرامہ اچھا ہے خون جلانے کیلئے۔ جڑواں کی کیا خوب کہانیاں بن سکتیں ہیں مگر اس ڈرامے کے ہدایت کار نے چنی سب سے بونگی کہانی۔ جب سب کہانی کھل گئ تو ہیرو کو اسکی اصل والی بھڑا کر دوسری ہیروئن جو بے چاری سی تھی اور اس پر ایک اور ہم جماعت مر مٹا تھا تو دو جوڑے بنا کر ہنسی خوشی زندگی اکٹھے پڑھتے اور دوسرے شر پسند طلباء کو تگنی کا ناچ نچاتے دکھا کر اچھا سبق نہیں دے سکتے تھے ؟ ضرورئ تھا ہم سب کو آپکی عقل کا ماتم کرنے پر مجبور کرنا؟ یار یوک سنجے کو اچھا کردار دے دو ہزار گنا بہتر اداکار ہے
اور تم میں سے کسی نے لو الارم دیکھا ہو تو پتہ لگ جائے گا یہ کم سوہیون ایسی ہی ہے بالکل ایک جیسا کردار ہے دونوں ڈراموں اور تینوں کرداروں میں ہونہہ

“>> » Home » Korean Drama Reviews » Who Are You:School 2015 rom com kdrama starring Kim So-hyun and NamJoo hyuk urdu review

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: