Breaking News

Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder Default Placeholder

Flex X Cop

کبھی کوئی کےڈرامہ دیکھ کر دل کیا کہ آپ بھی اس ڈرامے کا ہیرو یا ہیروئن ہوں۔ یہ والی زندگی جینی ہے بس۔ اف قسم سے نا دو بونگ سون بننے کا اتنا دل کیا مجھے کہ پاکستانی لڑکوں کی پٹائیاں کروں دل بھر کرکے نا ہی کم سوہیون کی طرح ہمیشہ جوان رہنے والی خلائی مخلوق جتنا اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد دل کررہا ہے کہ ہاتھ پیر چھوڑ کر بستر پر ڈیرہ ڈالے رکھوں اس ہیرو والی زندگی ہو اور بس امن ہو چین ہو۔

اف۔ کیا زندگی ہے ۔۔ ایسی زندگی چاہیئے تھی مجھے۔ اور کیا ملی ہے 😔

خیر اتنا تو پتہ لگ گیا ہوگا کہ کہانی ہے کسی امیر بد دماغ رئیس ذادے کی۔ ہاں۔یہ رئیس زادہ پیر پسارے بستر میں لیٹنے جیسی لگژری زندگی گزار رہا ہے۔ ابا فالتو ملاقاتوں کیلئے بلاتے ہیں یہ سوتے رہتے بھائی منتیں کرتا ہے آجائو چار پیسے کما لو یہ سوتا رہتا مگر اسکو آتا ہے ایک عدد پیغام کہ ایک عدد لڑکی اغوا ہوگئ ہے اسے بچانا ہے یہ اچھل کر بستر سے اترتے ہیں بھاگم بھاگ پولیس وردی پہن کرتیار ہو کر نہایت قیمتی بائک میں جائے وقوعہ تک پہنچتے ہیں۔

جا کر خوب بمباری گولی باری ہوتی ہے ایک بڑے شاپنگ مال کی چھت پر درجنوں لوگوں کو لال خون میں نہلا کر بچاتے ہیں ایک عدد خاتون کو۔ اور وہ ہنس کر کہتی ہیں مزا آیا۔ عجیب لگا نا۔ عجیب ہی تھا کیونکہ یہ سب ڈرامہ بازی تھی۔ اصل زندگی میں ویڈیو گیم کھیل رہے تھے ہیرو میاں اصل لوگوں کے ساتھ نقلی بندوقوں اور نقلی خون سے۔ دھت تیرے کی۔ پیسہ اتنا ہے اس بندے کے پاس ہے شاپنگ مال پورا کرائے پر لے رکھا تھا۔ شاپنگ مال میں جو توڑ پھوڑ مچائی اس سب کا بھی پیسہ بھرا اور مزے سے ہاتھ جھلاتے پہنچے کلب میں۔ یہاں خوب ناچ گانا کیا اور اپنے دوست کے ساتھ غل غپاڑہ بھی۔

دوسری جانب ایک عدد خاتون پولیس افسر اپنے دو عدد ٹیم ارکان کے ساتھ ایک قاتل کو ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔

اب ہوا یوں کہ ہیرو کے دوست کو ایک راہ چلتا آدمی چھرا کھبو کر بھاگ نکلا اب یہ ہیرو صاحب ہیں کہ نقلی چور پولیس کھیلتے ہیں مگر اصلی ایم ایم اے فائٹر ہیں اور وکالت کی سند بھی لے رکھی ہے۔ سو بنا خیال کیئے کہ ابھی تک نقلی پولیس وردی میں ہیں بھاگے اس آدمی کے پیچھے جا لیا مار مار کر بھرکس نکال دیا اور انکی وردی کا پیچھا کرتے پولیس افسرنئ بھی پہنچ گئی ۔جب اسے راہگیر کو خون میں نہلاتے دیکھااوپر سے نقلی وردی پہنے بھی تو پکڑ کر جیل میں بند کردیا۔

اب ڈورمنٹ پڑے والد مطلب عارضی طور پر منظر سے غائب ابا نکلے جو الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان پر عین پریس کانفرنس کے درمیان یہ بجلی گری کہ بیٹا جیل میں مار پیٹ کرنے کے جرم میں بند ہے۔ طیش میں آئے اپنی ساکھ بچانے کیلئے عاق تک کردیا۔پولیس افسرنئ پر انکشاف ہوا کہ ہیرو جس کو پیٹ رہا تھا وہ اصل میں مطلوب مجرم ہی تھا اور ہیرو بے چارہ بے گناہ پکڑا گیا۔ رئیس ذادے کو بے گناہ پکڑنے کامعاملہ پولیس کے حلق میں چھچھوندربن کے اٹک گیا۔ ادھر الیکشن سر پر ہیں بیٹا جیل میں آخر کیا کیا جائے رئیس زادے کے ابا پریشان۔

اب بھائی میاں نے معاملہ سنبھالا پولیس سے ساز باز کی۔ ہیرو چونکہ وکالت پڑھ چکا ہے اسے اعزازی طور پر پولیس میں بھرتی کروایا اور دنیا پر یہ ثابت کیا کہ وہ دراصل خفیہ مشن پر تھا اور ایک عادی مجرم پکڑ رہا تھا۔

یہ معاملہ نمٹا ہیرو کو ہیروئن کی ٹیم میں کام کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ مگر ہیروئن کو حسب عادت چڑ ہوگئ ہے ہیرو سے اسکے پیسے سے ۔سو اس نے با ضابطہ دشمنی کا آغاز کردیا ہے ناک میں دم کر رہی ہے ہیرو کے اور ہیرو بھی کم نہیں۔

دونوں اب ایک عدد ابھرتی ہوئی ماڈل کے قتل کا سراغ لگا رہے ہیں۔ آگے کیا ہوگا اگلے ہفتے پتہ چلے گا۔ کہانی بس ٹھیک ہی ہے۔ ہیروئن عجیب سپاٹ تاثرات والی بونگی سی رکھ لی بالکل اچھی نہیں لگ رہی۔ ہیرو حسب معمول بےتحاشہ پیارا اور اچھا اداکار ہے۔ ایسا پیسہ پھینکا ہے ایسی امیروں کی دنیا دکھائی ہے کہ ہیرو کو تو اداکاری کرتے خوب مزے آئے ہوں گے اور مجھے حسرتوں نے وہ مار ماری ہے کہ کیا بتائوں۔ ہیرو کا بیڈ اتنا پیارا اتنا مزے کا اتنی بڑی ایل ای ڈی اتنا بڑا کمرہ وارڈروب اف گاڑیاں ایک سے ایک اسکے پاس۔ جہاں جاتا ہے پیسہ پانی کی طرح پھینکتا پھرتا ہے اف۔اتنے فالوورد اسکے اتنا مشہور سب اتنا مر رہے اس پر ایسی ایسی امیروں والی جگہ گھومتا امیروں والے کام کرتا کہ بس۔۔ مجھے یہ والی زندگی چاہیئے اللہ میاں۔ ویسے ہیونگ سک اتنا ہی امیر ہے کہ۔ آہم بات کہاں سے کہاں چلی گئ۔

میرا تو اگلی قسط دیکھنے کا ارادہ ہےتم لوگ بتائو کوئی دلچسپی محسوس ہوئی؟

Desi kimchi ratings : 4/5

“>> » Home » Korean Drama Reviews » “Unveiling the Intriguing World of Flex Cop: A Captivating Urdu Review of the Popular K-Drama”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Share Article: